BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 09 December, 2006, 10:16 GMT 15:16 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
زیادتی پر ڈاکٹر کو دس سال قید

ڈاکٹر نے لڑکی کو اپنے کمرے میں جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا
لاہور میں ایک ضلعی عدالت نے شہر کے ایک میڈیکل ڈاکٹر کو اپنی مریضہ کے ساتھ زبردستی جنسی فعل کرنے کے جرم میں دس سال قید کی سزا سنائی ہے۔

جمعہ کو جب ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اور سیشن جج سرور سلیم اللہ نے فیصلہ سنایا تو پولیس نے مجرم ڈاکٹر نذیر احمد (ایم بی بی ایس) کو گرفتار کرلیا۔ وہ پانچ ماہ جیل میں قید رہنے کے بعد ضمانت پر رہا ہوگئے تھے۔ ملزم شہر کے ایک مصروف جنرل فزیشن تھے۔

پاکستان کے قانون کے تحت جنسی زیادتی یا زنا بالجبر کا شکار ہونے والی عورت کا نام شائع کرنا جرم ہے۔

استغاثہ کے مطابق متاثرہ لڑکی اکتیس اگست سنہ دو ہزار پانچ کو اپنے چچا وارث علی کے ساتھ والٹن روڈ پر ڈاکٹر نذیر احمد کے پاس علاج کی غرض سے گئی تھی جہاں ڈاکٹر نے اسے اپنے کمرے میں جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔

یہ لڑکی یتیم ہے اور اپنے چچا کی نگرانی میں رہتی ہے۔

فیکٹری ایریا پولیس نے لڑکی کے چچا کی شکایت پر اس کا مقدمہ اس وقت نافذ حدود قوانین (زنا کے نفاذ کا آرڈیننس مجریہ انیس سو ستانوے) کے تحت درج کیا تھا۔

جنسی زیادتی کے بارےمیں لڑکی کا بیان، اس کے چچا کا بیان اور اس کے حق میں طبی رپورٹ کو استغاثہ نے اپنے الزام کے ثبوت میں پیش کیا تھا جبکہ ملزم نے یہ تسلیم کیا تھا کہ لڑکی اور اس کا چچا اس کے کلینک میں آئے تھے۔

تاہم ملزم نے جنسی زیادتی کے الزام سے انکار کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ نامرد ہے اور ایسا فعل نہیں کرسکتا۔

وکیل استغاثہ کا کہنا ہے کہ نفاذ زنا مجریہ انیس سو ستانوے کے قانون کے تحت زنا بالجبر کے ملزم کو دس سال سے عمر قید (پچیس سال قید) کی سزا دی جاسکتی ہے لیکن عدالت نے اسے کم سے کم سزا دی ہے جس کے خلاف وہ وفاقی شرعی عدالت سے رجوع کریں گے کہ اس سزا کو پچیس سال تک بڑھایاجائے۔

وکیل نے کہا کہ حدود قوانین کے تحت زنا بالجبر کے ثبوت میں اگر چار گواہ ہوں تو اسلامی حد لاگو ہوتی ہے ورنہ تعزیر کے تحت سزا دی جاتی ہے۔ چونکہ اس مقدمہ میں چار گواہ نہیں تھے اس لیے ملزم کو حد کی بجائے تعزیر کے تحت سزا دی گئی ہے۔

ملزمہ کے وکیل راجہ عبدالرحمان کا کہنا ہے کہ چونکہ تحفظ نسواں کا نیا قانون ابھی نافذ ہوا ہے اور اس کا اطلاق ماضی میں درج کیے گئے مقدموں پر نہیں ہوتا اس لیے لڑکی سے زیادتی کے مجرم کو پرانے حدود قوانین کے تحت سزا دی گئی ہے اور اس فیصلہ کے خلاف اپیل بھی لاہور ہائی کورٹ میں نہیں بلکہ وفاقی شرعی عدالت میں سنی جائے گی۔

اسی بارے میں
حدود کیس۔ اٹارنی جنرل طلب
04 October, 2006 | پاکستان
چالیس سالہ عورت کا گینگ ریپ
03 November, 2006 | پاکستان
نسواں قانون، ماڈریشن کی جیت
08 December, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد