BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 17 November, 2006, 14:55 GMT 19:55 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ہلاک شدگان کی تعداد میں اضافہ

خیبر ایجنسی
لڑائی جمعرات کو خیبر ایجنسی کے علاقے تیرہ کے دور افتادہ مقام آکاخیل میں ہوئی
پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں گزشتہ روز دو مخالف مزہبی تنظیموں کے حامیوں کے مابین شروع ہونے والی جھڑپوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد دس تک پہنچ گئی ہے جبکہ چار دیگر زخمی ہوگئے ہیں۔

خیبر ایجنسی کی پولیٹکل انتظامیہ کے مطابق یہ لڑائی آج بھی جاری رہی جبکہ ایک گروپ کی جانب سے مخالفین کے گھروں کو جلانے کے اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔

علاقے سے ملنے والی آخری اطلاعات کے مطابق فریقین بدستور مورچے سنبھالے ہوئے ہیں تاہم فائرنگ کا سلسلہ بند ہوگیا ہے۔

یہ لڑائی جمعرات کے روز خیبر ایجنسی کے علاقے تیراہ کے دور افتادہ مقام آکاخیل میں اس وقت شروع ہوئی جب مذہبی تنظیم لشکر اسلامی نے مخالف تنظیم انصار الااسلام کے حامیوں گل مرعان گروپ پر بھاری ہتھیاروں سے حملہ کیا۔

سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ حملے میں انصار الااسلام کے چھ اور لشکر اسلامی کے چار حامی مارے گئے ہیں جبکہ چاردیگر زخمی ہوئے ہیں۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ جمعے کے روز لشکر اسلامی کے حامیوں نے آکاخیل کے علاقے میں

گل مرعان گروپ کے گھروں پر ہلا بول دیا اور ان کے کئی گھروں کو جلایا گیا ۔

ادھر اپنے اپ کو لشکر اسلامی کا نائب امیر کہلانے والے والے مستری گل نے بی بی سی کو کسی نامعلوم مقام سے فون کرکے بتایا کہ جھڑپوں میں اب تک دونوں جانب سے پچیس افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کے گروپ نے مخالف تنظیم کے بیس افراد کو ہلاک جبکہ ان کے بیس سے زائدحامیوں کو یرغمال بنایا ہے تاہم مخالف فریق سے اس دعوے کی تصدیق نہ ہوسکی۔

مستری گل نے بتایا کہ ان کے چار حامی بھی لڑائی میں مارے گئے ہیں۔

واضع رہے کہ لشکر اسلامی کے کمانڈر منگل باغ نے چند ماہ قبل خیبر ایجنسی کے تحصیل باڑہ میں سینکڑوں مسلح حامیوں کی موجودگی میں ایک کمیٹی قائم کی تھی جس کے تحت علاقے میں مسلح گشتیں کرانے اور مختلف جرائم کےلئے اسلامی سزائیں دینے کا اعلان کیا گیا تھا۔ تاہم بعد میں پولیٹکل انتظامیہ نے منگل باغ گروپ پر دباؤ بڑھانے کےلئے باڑہ بازار ایک ماہ کےلئے بند کیا اور اس کے قبیلے سے علاقے میں امن وامان کی صورتحال خراب نہ کرانے کی ضمانت لی گئی۔

اس دوران ایک اوراسلامی تنظیم انصارالااسلام کا وجود عمل میں لایا گیا جس نے علاقے میں منگل باغ گروپ کی کاروائیوں کو غیر اسلامی قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف مسلح جدوجہد شروع کی۔

گزشتہ چند ماہ کے دوران ان دونوں شدت پسند تنظیموں کے مابین تیراہ کے علاقے میں کئی بار خون ریز جھڑپیں ہوچکی ہیں جس میں کم سے کم پچاس افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

یادرہے کہ فریقین ان جھڑپوں میں بھاری ہتھیاروں کا بے دریغ استعمال کرتے رہے ہیں جس سے کئی بے گناہ لوگ نشانہ بنے ہیں تاہم مقامی انتظامیہ اب تک ان شدت پسند گروپوں کے خلاف کاروائی کرنے میں ناکام رہی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد