بلوچستان: فائرنگ سے سمگلر ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان کے علاقے نوشکی میں پاک افغان سرحد کے قریب سمگلروں اورفرنٹیر کور کے اہلکاروں کے درمیان فائرنگ کے نتیجے میں ایک سمگلر ہلاک ہو گیا ہے۔ فرنٹیرکور نے بھاری مقدارمیں اسلحہ برآمد کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ کوئٹہ سے 120 کلومیٹر دور نوشکی میں سرلٹ کے علاقے میں منگل کی صبح پاک افغان سرحد پرگوری نالہ کے مقام پر اسلحہ کے سمگلروں اور پاکستان کی سرحدی فورسز کے درمیان ایک جھڑپ ہوئی جس میں دونوں جانب سے ایک گھنٹے تک فائرنگ کا تبادلہ کیا گیا۔ کوئٹہ میں فرنٹیرکور کے ترجمان میجرعمرکے مطابق فائرنگ کے تبادلے کے بعد ایف سی کے اہلکاروں نے بھاری مقدارمیں اسلحہ برآمد کیا ہے۔ تاہم ابھی تک یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اس فائرنگ سے فریقین کا کتنا جانی نقصان ہوا ہے۔ میجرعمرنے بتایا کہ یہ اسلحہ پاکستان میں تخریب کاری کے لیئے افغانستان سے لایا جارہا تھا۔ البتہ نوشکی میں مقامی صحافی حاجی سعید کے مطابق اس واقعے میں ایف سی نوشکی نے ایک سمگلرکی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ باقی سمگلر افغانستان کی طرف فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ برآمد ہونے والے اسلحے میں مارٹر کے گولے، اینٹی ٹینک مائنز اور دیگر تخریبی مواد شامل ہے۔ واضح رہے کہ پاکستان کی مرکزی حکومت بلوچستان میں امن وامان کی خرابی کی ایک بڑی وجہ وہ اسلحہ بتاتی ہے جوبقول گورنربلوچستان اویس احمد غنی کے افغانستان سے لا کر یہاں حکومت مخالف بلوچوں کودیا جارہا ہے تاہم افغان حکومت نے اس کی ہمیشہ تردید کی ہے۔ دوسری جانب مستونگ کے علاقے دھشت میں محکمہ گیس کی انجینرؤں نے پائپ لائن کی مرمت کا کام دوبارہ شروع کردیا ہے جسے کل رات نامعلوم افراد نے دھماکے سے اڑایا تھا۔ دھماکہ سے کوئٹہ، مستونگ، پشین اورزیارت کوگیس کی سپلائی بند ہو گئی تھی۔ تاہم منگل کی صبح کوئٹہ شہر کومتبادل لائن کے ذریعے گیس کی سپلائی بحال کردی گئی جبکہ صوبے کے دیگر علاقوں میں ابھی تک گیس نہیں ہے۔ اس کےعلاوہ قلات میں بھی نامعلوم تخریب کاروں نے گزشتہ شب شہرکوگیس فراہم کرنے والے گیس فلٹر پمپ کودھماکے سے اڑا دیا ہے جس سے قلات اور دیگر علاقوں کو گیس کی سپلائی معطل ہوگئی ہے۔ کوئٹہ میں حکومت بلوچستان کے ترجمان رازق بگٹی نے گیس پائپ لائنوں کوتخریبی کارروائیوں کا نشانہ بنانے کی سخت مذمت کی ہے اور کہا ہےکہ یہ وہی دہشت گرد ہیں جو بلوچستان کے حقوق کے نام پرحکومت کے ساتھ عام لوگوں کے لیئے بھی مسائل پیدا کر رہے ہیں۔ انہوں نےیقین دہانی کروائی کہ کوئٹہ سمیت صوبے کے دیگرمتاثرہ علاقوں کوشام تک گیس کی سپلائی مکمل طور پربحال کردی جائےگی۔ واضع رہے کہ گیس کی بندش کی وجہ سےنہ صرف پیر کی رات سحری کے وقت عام روزہ داروں کومشکلات کا سامنا کرنا پڑا بلکہ کئی ہوٹل بھی بند رہے۔ یہاں یہ امر بھی قابل ذکرہے کہ گزشتہ دو دن میں دھشت، قلات اورسوئی میں تین مختلف واقعات میں گیس پائپ لائنوں کونشانہ بنایا گیا ہے۔ سوئی کے واقعے کی ذمہ داری پہلے ہی بلوچ مزاحمت کار اس دھمکی کے ساتھ قبول کر چکے ہیں کہ عید کے بعد قومی تنصیبات پرحملوں میں شدت آئےگی۔ آگرچہ حکومت نے بلوچستان میں ان تنصیبات کے تحفظ کے لیئے بڑے پیمانے پرسکیورٹی فورسز تعینات کیے ہیں لیکن کوئٹہ میں حکومت بلوچستان کے ترجمان رازق بگٹی کے مطابق بلوچستان جیسےوسیع وعریض صوبے میں حکومت کے لیئے گیس، ٹیلی فون، بجلی اور ریلوے کی تمام تنصیبات کی حفاظت کرنا مشکل ہے۔ | اسی بارے میں پنجاب میں گیس پائپ لائن پر دھماکہ26 February, 2006 | پاکستان راجن پور: گیس پائپ لائن تباہ05 August, 2006 | پاکستان راجن پور:گیس پائپ لائن تباہ05 August, 2006 | پاکستان سوئی: گیس پائپ لائن تباہ08 August, 2006 | پاکستان کوئٹہ: گیس پائپ لائن کو دھماکے سے اڑایا12 August, 2006 | پاکستان کوئٹہ کے قریب گیس پائپ لائن تباہ12 August, 2006 | پاکستان سوئی: گیس پائپ لائن پر دھماکہ23 October, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||