BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کوئٹہ: ہیروئن کی لعنت کا خاتمہ

ملا گل کا کہنا تھا کہ منشیات کے خاتمے میں عام لوگوں نے بھی ان کا بھرپور ساتھ دیا
افغانستان کے قریب پاکستان کے سرحدی شہرچمن کواس لحاظ سے منفرد مقام حاصل ہوا ہے کہ یہاں چند مقامی افراد پر مشتمل ایک غیرسرکاری تنظیم نے اپنی مدد آپ کے تحت شہر کے تمام علاقوں سے ہیروئن فروخت کرنے اور پینے والوں کا مکمل خاتمہ کردیا ہے۔

منشیات کے خلاف اس تنظیم نے 2001 میں کام شروع کیا تھا اور اب تک 900 سو سے زائد افراد یہاں سے علاج کروانے کے بعد اس قابل ہوچکے ہیں کہ وہ باعزت زندگی شروع کرسکیں۔

منشیات کے خلاف کام کرنے والے اس مرکز میں علاج کے لیئے نہ صرف پاکستان کے چاروں صوبوں سے لوگ آتے ہیں بلکہ کئی افغانی بھی یہاں زیرعلاج ہیں۔

اس مرکز میں کام کرنے والے زیادہ تر رضاکار وہ ہیں جو پہلے ہی منشیات چھوڑنے کے لیئے یہاں سے علاج کروا چکے ہیں۔

مرکز کے بانی اور سرپرست زین الحق عرف ملا گل نے بتایا کہ جب انہوں نے یہ فلاحی کام پانچ سال قبل شروع کیا تھا تواس وقت ہیروئن کے عادی افراد کو رکھنے کے لیئے ان کے پاس کوئی جگہ نہیں تھی۔ بعد میں انہوں نے دو دکانیں کرائے پرحاصل کیں اور منشیات کے عادی افراد کو شہر بھر سے جمع کر کے یہاں رکھا جاتا تھا۔

منشیات ترک کرنے والے افراد کا کہنا تھا کہ حکومت کو منشیات کے خاتمے کے لیئے مؤثر کردار ادا کرنا چاہیے

ان کا کہنا تھا کہ اس نیک کام میں چمن کی ضلعی انتظامیہ نے کبھی کوئی مداخلت نہیں کی اور عام لوگوں نے بھی ان کا بھرپور ساتھ دیا۔

ملا گل کے مطابق انہوں نےابتداء میں چمن شہر سے کئی منشیات فروشوں کو بھی گرفتار کیا تھا جنہیں بعد میں مقامی عمائدین کی اس شرط پر رہائی ملی کہ وہ آئندہ چمن میں ہیروئن فروخت نہیں کریں گے۔

ملا گل نے ایک دلچسپ بات یہ بتائی کہ منشیات چھوڑنے کے بعد زیادہ تر ا‌فراد پاک افغان سرحد پر روزگار کے لیئےگدھا گاڑیاں چلا رہے ہیں۔ اشیائے ضرورت کی چیزیں پاکستان سے افغانستان اور وہاں سے یہاں لاتے ہیں۔ دن بھر کی محنت مزدوری سے کمائے گئے پیسوں میں سے کچھ رقم باقاعدگی سے ہرشام اس مرکز کو بطور عطیہ دیتےہیں اور وہ اب دوسروں کو بھی اس لعنت سے چھٹکارہ دلانے میں اپنا کردار ادا کررہے ہیں۔

مرکز کے ایک رضاکار ملا ماما نے بی بی سی کو بتایا کہ یہاں سے علاج کرانے کے بعد بہت کم لوگ ایسے ہیں جنہوں نے دوبارہ ہیروئن پینی شروع کردی ہو۔

ان کے بقول علاج کے بعد دوبارہ نشہ کرنے والوں کو یہاں سخت سزائیں دی جاتی ہیں۔ مارپیٹ کے علاوہ انہیں کئی دنوں تک بھوکا پیاسا رکھا جاتا ہے۔

’ان افراد کو زنجیروں میں باندھ کر زیر زمین تہہ خانے میں رکھا جاتا ہے اور یہ نہ ختم ہونے والا وہ سلسلہ ہے جو دوبارہ انہیں منشیات کے استعمال سے روکنے میں مدد دیتا ہے کیونکہ یہاں علاج کےدوران کسی قسم کی ادویات یا انجکشن استعمال نہیں کیے جاتے صرف انسان کا ارادہ مضبوط ہونا چاہیےـ البتہ دن میں کئی بار انہیں نہلایا ضرور جاتا ہے‘۔

مرکز میں زیرعلاج ایک مریض پابند خان نے بتایا کہ ان کا اچھا کاروبار تھا مگر دس سال سے وہ منشیات کے عادی تھے۔ ایک دن میں ہیروئن کی دس پڑیاں پیتے تھے۔

ان کا کہنا ہے کہ ایک پڑیا ہیروئن کی قیمت اس وقت 70 سے 80 روپے کے درمیان تھی جو بقول ان کے کوئٹہ کے حبیب نالہ سے با آسانی دستیاب ہے۔

ایک مریض نے بتایا کہ انہیں ہسپتال کے باہر بھی بڑی آسانی کے ساتھ ہیروئن مل جاتی تھی

پنجاب کے شہر صادق آباد کے رہائشی جاوید اختر نے بتایا کہ وہ یہاں دو ماہ سے زیِرعلاج ہیں۔ اس سےقبل بھی انہوں نےمنشیات کے علاج کے لیئے لاہور اور ملتان کے مشہور ہسپتالوں میں علاج کروایا تھا۔ ہزاروں روپے خرچ کیے مگر کوئی فائدہ نہیں ہوا کیونکہ ہسپتال کے باہر بھی بڑی آسانی کے ساتھ ہیروئن مل جاتی تھی۔

جاوید کا کہنا تھا کہ جب تک حکومت منشیات کی فروخت کو کنٹرول نہیں کرے گی اس وقت تک معاشرے کو اس تباہی سے بچایا نہیں جا سکتا۔

یہاں یہ امرقابل ذکر ہے کہ اس مرکز میں آج بھی علاج معالجہ کی بنیادی سہولتیں موجود نہیں ہیں اور نہ ہی حکومتی اداروں اور غیرسرکاری تنظیموں نے اس مرکز کی طرف کوئی توجہ دی ہے جو پاکستان میں ہر سال منشیات کی روک تھام کے نام پر سالانہ لاکھوں ڈالرخرچ کرتے ہیں۔

poppyمنشیات غیر شرعی
بلوچستان میں منشیات کے خلاف فتویٰ
اسی بارے میں
سمگلنگ روکنے پر اتفاق
16 June, 2004 | پاکستان
منشیات سمگلر انسپکٹرگرفتار
03 September, 2006 | پاکستان
آٹھ کروڑ کی ہیروئن پکڑی گئی
02 September, 2004 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد