’مطلوب افراد حوالے نہیں کریں گے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی دفترِ خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم کا کہنا ہے کہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان دہشتگردی کےخلاف مربوط نظام کے معاہدے میں مطلوب افراد کے تبادلے کی شق شامل نہیں ہوگی۔ دفترِ خارجہ کی ہفتہ وار پریس بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے تسنیم اسلم نے کہا کہ صدر مشرف اور انڈین وزیراعظم کی ملاقات کے بعد جاری ہونے والے بیان میں دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کوششوں کا اعلان کیا گیا ہے اور ایسا کرنا صرف پاکستان کی ذمہ داری نہیں بلکہ انڈیا کو بھی پاکستان کا ساتھ دینا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف مربوط نظام کے تحت کشمیر کی تحریکِ آزادی سے متعلق کسی فرد کوانڈیا کےحوالے نہیں کیا جائےگا اور نہ ہی اس قسم کی کوئی شق اس نظام کے معاہدے میں شامل ہوگی۔ ایک سوال کے جواب میں تسنیم اسلم نے کہا کہ پاکستان اور انڈیا ماضی میں بھی مطلوب افراد کی فہرستوں کا تبادلہ کرتے رہے ہیں اور اس نئے نظام میں مطلوب افراد کے تبادلے کی شق شامل نہیں ہوگی بلکہ اس نظام کے تحت دونوں ممالک میں ممکنہ دہشت گردی سے متعلق اطلاعات کا تبادلہ ہوگا۔ افغان صدر حامد کرزئی کے جانب سے دیئے جانے والے سخت بیانات پر تبصرہ کرتے ہوئے تسنیم اسلم نے کہا کہ صدر مشرف نے بھی اپنے حالیہ دورہ افغاسنتان میں واضح کیا تھا کہ پاکستان افغانستان میں امن اور استحکام دیکھنا چاہتا ہے اور چاہتا ہے کہ تعمیرِ نو کا عمل تیز ہو تاہم ان تمام چیزوں پر عمل کرنا افغان حکومت کا کام ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو یقین ہے کہ طالبان قیادت پاکستانی سرحد سے کہیں دور افغانستان کے اندر سرگرمِ عمل ہے اور افغانستان کے اندر جاری مزاحمت اس کی دلیل ہے۔ انہوں نے اس دعوے کو بے بنیاد قرار دیا کہ طالبان کے لیڈر ملا عمر نے شمالی نے وزیرستان میں ہونے والے امن معاہدے میں کسی قسم کا کردار ادا کیا۔ امریکہ سے سول نیوکلیئر ٹیکنالوجی کے شعبے میں تعاون کے معاملے پر دفترِ خارجہ کی ترجمان نے کہا کہ پاکستان کو پہلے ہی اس شعبے میں چین کا تعاون حاصل ہے اور وہ دیگر ممالک سے بھی اسی قسم کا تعاون چاہتا ہے۔ پریس بریفنگ کے دوران تسنیم اسلم نے سنہ دو ہزار ایک میں اس وقت کے امریکی نائب وزیرِ خارجہ رچرڈ آرمیٹیج کے پاکستان کو جنگ میں ساتھ نے دینے پر پتھر کے دور میں دھکیلنے سے متعلق بیان پر یہ کہہ کر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا کہ اس بیان کا تعلق صدر مشرف کی کتاب سے ہے اور جب تک باقاعدہ طور پر اس کتاب کی رونمائی نہیں ہو جاتی وہ اس سوال یا کسی ایسے سوال پر تبصرہ نہیں کریں گی جس کا تعلق اس کتاب سے ہو۔ | اسی بارے میں حزب اختلاف کا وفد انڈیا روانہ08 May, 2006 | پاکستان منموہن سنگھ کے بیان کا خیر مقدم26 May, 2006 | پاکستان وولر بیراج پر مذاکرات شروع22 June, 2006 | پاکستان انڈیا سے ملاقاتیں ہورہی ہیں،قصوری20 August, 2006 | پاکستان انسداد دہشتگردی: پاک بھارت تعاون 19 September, 2006 | پاکستان پاکستان کو امن مذاکرات کی جلد توقع17 May, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||