ٹکٹ پالیسی: انڈین مسافر پریشان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی سے مونا باؤ (انڈیا) جانے والی تھر ایکسپریس میں مسافروں کی تعداد زیادہ ہونے کی وجہ سے پاکستان کے ریلوے حکام نے ٹکٹ پالیسی تبدیل کردی ہے جس کی وجہ سے بھارتی مسافروں کی ایک بڑی تعداد اپنے ملک واپس نہیں جا پائی ہے۔ رواں سال سترہ فروری سے کھوکھرا پار مونا باؤ ریلوے سروس بحال ہونے کے بعد پاکستان اور انڈین شہریوں کی آمدورفت کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ یہ مسافر پندرہ دن سے تین ماہ کے ویزہ پر پاکستان پہنچ رہے ہیں جن کے پاس واپسی کے لیئے اوپن ٹکٹ ہوتے ہیں تاکہ اپنی سہولت کے تحت واپسی کی ٹکٹ بک کروائی جا سکے۔ کراچی کینٹ ریلوے سٹیشن پر ہر سنیچر کو مونا باؤ کے لیئے روانہ ہونے والی تھر ایکسپریس میں گنجائش سے زیادہ مسافر سوار ہوجاتے ہیں جس کی وجہ سے گاڑی کو حیدرآباد اور میرپورخاص سٹیشن پر بھی نہیں روکا جاتا۔ گزشتہ دنوں میں ان سٹیشنوں پر ریل گاڑی پر پتھراؤ اور کھڑکیاں توڑنے کے واقعات پیش آچکے ہیں۔ ریلوے حکام کے مطابق نئی پالیسی کے تحت تھرایکسپریس میں صرف ان مسافروں کو سوار ہونے دیا جائےگا جن کی سیٹ ریزرو ہوگی جبکہ کسی کو اوپن ٹکٹ پر سفر کرنے کی اجازت نہیں دی جائےگی۔
نئی پالیسی کے بعد سنیچر کی شب کراچی، حیدرآباد اور میرپورخاص ریلوے سٹیشنوں پر پانچ سو سے زائد مسافروں کو تھر ایکسپریس میں سوار ہونے سے روک دیا گیا۔ ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ جن مسافروں کو روکا گیا ہے ان کے پاس ریزرویشن نہیں تھی اور وہ اوپن ٹکٹ پر سفر کرنا چاہتے تھے۔ حکام کا کہنا ہے کہ کراچی سے تریپن مقامی اور ایک سو تئیس بھارتی مسافروں کا کوٹہ ہے مگر ہر بار سات سو مسافر سوار ہوجاتے ہیں۔ ریلوے حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ مسافروں کی تعداد زیادہ ہونے کی وجہ سے کسٹم اور امیگریشن حکام کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انڈیا واپس نہ جانے والوں میں ایسے مسافر بھی شامل ہیں جن کے ویزے کی معیاد ختم ہوگئی ہے یا ختم ہونے والی ہے۔ اب اس صورت میں ان کو وزارت داخلہ سے ویزے میں توسیع کروانی پڑے گی۔ درگاہ خواجہ معین الدین چشتی اجمیری کے خادم سید امین چشتی بھی ان مسافروں میں شامل ہیں جو واپس نہیں جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ گزشتہ کئی دنوں سے سیٹ بک کروانے کی کوشش کرتے رہے ہیں مگر کامیاب نہیں ہوسکے اور ان کے ویزہ کی مدت بھی دس جون کو ختم ہو رہی ہے۔ پاکستان حکومت کی طرف سے جاری ویزے میں طے شدہ روٹ کے علاوہ انڈین مسافر متبادل روٹ سے واپس نہیں جاسکتے۔ سید امین چشتی کا کہنا تھا کہ بھارت جانے والے مسافروں کو کسی بھی روٹ سے آنے جانے کی سہولت ہونی چاہیئے تاکہ اگر کوئی کھوکھرا پار سے نہیں جاسکے تو واہگہ بارڈر کے ذریعے اپنے ملک روانہ ہوسکے۔ کئی انڈین شہری اس وجہ سے پریشان ہیں کیونکہ تین جولائی سے بھارت میں سکول کھل جائیں گے اور وہ اس سے پہلے واپس جانا چاہتے ہیں۔ ایک انڈین شہری انور حسن کا کہنا تھا کہ وہ تین ماہ سے یہاں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کو تھر ایکسپریس ہفتے میں دو مرتبہ چلانی چاہیے تاکہ مسافروں کو آنے جانے میں کسی تکلیف کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ ان کا کہنا تھا کہ لوگ اس روٹ کو اولیت اس لیئے دے رہے ہیں کیونکہ یہاں سے کم وقت اور کرائے پر پہنچا جاسکتا ہے۔ واضح رہے کہ سترہ فروری سے تھرایکسپریس شروع ہونے کے بعد ابھی تک حکومت کی جانب سے زیرو پوائنٹ پر کوئی سہولت فراہم نہیں کی گئی اور نہ ہی گاڑی میں مزید بوگیاں اور اے سی سلپیر کا انتظام کیا گیا ہے۔ اس کے باوجود مسافروں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ | اسی بارے میں تھر ایکسپریس کے آغاز میں تاخیر24 January, 2006 | انڈیا تھرایکسپریس کے چار گنا مسافر16 June, 2006 | انڈیا راجا کی ریل سے تھر ایکسپریس تک10 February, 2006 | پاکستان تھر ایکسپریس: 40 فیصد ٹکٹ واپس16 February, 2006 | پاکستان تھر ایکسپریس کراچی سے روانہ17 February, 2006 | پاکستان تھر ایکسپریس واپس پہنچ گئی18 February, 2006 | پاکستان تھر ایکسپریس بھارت پہنچ گئی18 February, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||