BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 16 June, 2006, 03:28 GMT 08:28 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
تھرایکسپریس کے چار گنا مسافر

کھوکھراپار
حکام کا کہنا ہے کہ مسافروں کی یہ تعداد اس ٹرین کی آمدورفت میں اضافہ کی ضرورت کو واضح کرتی ہے
راجستھان کے حکام کے مطابق ہندوستان اور پاکستان کی سرحدوں کو جوڑنے والی ٹرین ’تھر ایکسپریس‘ سے اب تک ایک ہزار سے زیادہ مسافر سفر کر چکے ہیں۔

ریاستی حکام کا کہنا ہے کہ مسافروں کی یہ تعداد اس ٹرین کی آمدورفت میں اضافہ کی ضرورت کو واضح کرتی ہے۔ فی الوقت یہ ٹرین ہفتے میں ایک مرتبہ چلتی ہے۔

ہندوستان کے راجستھان اور پاکستان کے سندھ علاقہ کے درمیان 41 سال کے وقفہ کے بعد اس سال فروری میں یہ ٹرین شروع کی گئی تھی۔

گزشتہ ہفتہ ہی تھر ایکسپریس کے 17 ویں دورہ میں 1047 مسافر پاکستان سے ہندوستان پہنچے ہیں۔ فروری میں تھر ایکسپریس کی کی شروعات سے اب تک اس کے مسافروں کی تعداد میں چار گنا سے زیادہ کا اضافہ ہوا ہے۔

محکمہ ریل کے ایک اعلی افسر مسٹر ایس بی گاندھی نے بتایا ہے کہ تھر ایکسپریس میں لوگوں کی دلچسپی کو دیکھتے ہوئے دونوں ملک سفری سہولیات میں اضافہ پر غور کر رہے ہیں۔

مسٹر گاندھی نے بتایا کہ ان میں نہ صرف اس ٹرین کی آمدو رفت میں اضافہ شامل ہوگا بلکہ راجستھان کے موناباؤ اور سندھ کے کھوکھراپار علاقہ کے ریلوے پلیٹ فارمز کی توسیع کرنا بھی شامل ہوگا۔

انہوں نے بتایا کہ اگلے مہینے ٹرین کی خدمات سے متعلق جائزے کے لیئےدونوں ملکوں کے نمائندے ملاقات کرنے والے ہیں اور اس دوران ہی اس معاملہ پر صلاح و مشورہ کیا جائے گا۔

فی الوقت دونوں ملکوں کے درمیان کیے گئے معاہدے کے مطابق چھ مہینے تک پاکستان تھر ایکسپریس چلائے گا اور اس کے بعد اسے چلانے کی ذمےداری ہندوستان کی ہوگی۔
لیکن مقامی افراد تھر ایکسپریس کی موجودہ سروس سے پوری طرح مطمئن نہیں ہیں۔ یہ لوگ ہندوستانی علاقے میں برمر سرحد کے نزدیک ٹرین کو روکنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

بعض لوگوں کی شکایت ہے کہ تھر ایکسپریس میں اتنی سہولیات موجود نہیں ہیں جتنی دونوں ملکوں کے پنجاب کو جوڑنے والی ٹرین میں موجود ہیں۔
لیکن دس برس قبل پاکستان کے سندھ علاقے سے ہندوستان منتقل ہونےوالے مسٹر دہتہا کا کہنا تھا کہ ’تھر ایکسپریس میں سفر کرنا واہگہ ہوکر جانے والی ٹرین کی بنسبت سستا ہے، کوئی بھی واہگہ اٹاری راستے سے ہو کر گزرنا نہیں چاہتا اور ایک سندھی کسی دوسرے راستے کے استعمال کو اپنی بے عزتی سمجھتا ہے‘۔
سمجھوتہ ایکسپریس کے بعد تھر ایکسپریس ہندوستان اور پاکستان کے درمیان چلنے والی دوسری اہم ٹرین ہے۔اور اس نے سالوں سے بچھڑے دونوں جانب کے رشتے دار اور خاندانوں کو دوبارہ جوڑنے میں ایک اہم کڑی کا کردار ادا کیا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد