تھرایکسپریس کے چار گنا مسافر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
راجستھان کے حکام کے مطابق ہندوستان اور پاکستان کی سرحدوں کو جوڑنے والی ٹرین ’تھر ایکسپریس‘ سے اب تک ایک ہزار سے زیادہ مسافر سفر کر چکے ہیں۔ ریاستی حکام کا کہنا ہے کہ مسافروں کی یہ تعداد اس ٹرین کی آمدورفت میں اضافہ کی ضرورت کو واضح کرتی ہے۔ فی الوقت یہ ٹرین ہفتے میں ایک مرتبہ چلتی ہے۔ ہندوستان کے راجستھان اور پاکستان کے سندھ علاقہ کے درمیان 41 سال کے وقفہ کے بعد اس سال فروری میں یہ ٹرین شروع کی گئی تھی۔ گزشتہ ہفتہ ہی تھر ایکسپریس کے 17 ویں دورہ میں 1047 مسافر پاکستان سے ہندوستان پہنچے ہیں۔ فروری میں تھر ایکسپریس کی کی شروعات سے اب تک اس کے مسافروں کی تعداد میں چار گنا سے زیادہ کا اضافہ ہوا ہے۔ محکمہ ریل کے ایک اعلی افسر مسٹر ایس بی گاندھی نے بتایا ہے کہ تھر ایکسپریس میں لوگوں کی دلچسپی کو دیکھتے ہوئے دونوں ملک سفری سہولیات میں اضافہ پر غور کر رہے ہیں۔ مسٹر گاندھی نے بتایا کہ ان میں نہ صرف اس ٹرین کی آمدو رفت میں اضافہ شامل ہوگا بلکہ راجستھان کے موناباؤ اور سندھ کے کھوکھراپار علاقہ کے ریلوے پلیٹ فارمز کی توسیع کرنا بھی شامل ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ اگلے مہینے ٹرین کی خدمات سے متعلق جائزے کے لیئےدونوں ملکوں کے نمائندے ملاقات کرنے والے ہیں اور اس دوران ہی اس معاملہ پر صلاح و مشورہ کیا جائے گا۔ فی الوقت دونوں ملکوں کے درمیان کیے گئے معاہدے کے مطابق چھ مہینے تک پاکستان تھر ایکسپریس چلائے گا اور اس کے بعد اسے چلانے کی ذمےداری ہندوستان کی ہوگی۔ بعض لوگوں کی شکایت ہے کہ تھر ایکسپریس میں اتنی سہولیات موجود نہیں ہیں جتنی دونوں ملکوں کے پنجاب کو جوڑنے والی ٹرین میں موجود ہیں۔ | اسی بارے میں براستہ کھوکھراپار پہلا بھارتی وفد 29 January, 2006 | پاکستان کھوکھراپارموناباؤ ریل 1 فروری سے 06 January, 2006 | پاکستان کھوکھراپار کھولنے کی تیاریاں 10 April, 2005 | پاکستان کھوکھراپار ریل، سال کے آخر تک04 March, 2005 | پاکستان کھوکھراپار،موناباؤ ریل مذا کرات03 December, 2004 | پاکستان کھوکھراپار سرحد، مذاکرات شروع09 March, 2004 | پاکستان کھوکھراپار سے ریل رابطے پر مذاکرات08 March, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||