کھوکھراپار کھولنے کی تیاریاں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سندھ کے وزیر اعلی ارباب غلام رحیم نے کہا ہے کہ کھوکھرا پار سرحد کھولنے کے لیے سڑک اور ریل کی پٹڑی پر کام جلد شروع کر دیا جائے گا۔ بی بی سی اردور سروس کو لندن میں ایک انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کھوکھرا پار سرحد تک سڑک تین ماہ کے اندر مکمل کی جاسکتی ہے جبکہ سرحد تک براڈ گیج یا چوڑی پٹڑی بچھانے میں وقت لگے گا۔ انہوں نے کہا کہ براڈ گیج کی پٹڑی بچھانے کے کام کی منظوری دی جا چکی ہے جبکہ سڑک بنانے کے منصوبے کی منظوری وہ وطن لوٹنے کے بعد دیں گے۔ مظفر آباد اور سری نگر کے درمیان بہت کم وقت میں بس سروس شروع ہونے کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سری نگر اور مظفرآباد کے درمیان سڑک موجود تھی اور صرف ایک پل کو مرمت کرنا تھا۔ انہوں نے کہا کہ کھوکھرا پار سرحد تک سڑک کبھی موجود ہی نہیں تھی اور ریل کی پٹڑی بھی نئے سرے سے بچھائی جائے گی۔ بھارتی پنجاب اور پاکستانی پنجاب کے درمیان بڑھتے ہوئے رابطوں کے بارے میں انہوں نے کہا کہ کھوکھرا پار سرحد جب کھل جائے گی تو وہ بھی سندھ سے ملحقہ بھارتی ریاست راجستھان کے وزیر اعلی کو سندھ آنے کی دعوت دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان جب تک مسئلہ کشمیر حل نہیں ہوجاتا باقی شعبوں میں دیرپا تعلقات قائم نہیں ہو سکتے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے مفاد پر کس قسم کی ذاتی دوستی اور مفاد کو ترجیح نہیں دی جاسکتی۔ پانی کے مسئلے اور کالا باغ ڈیم کی تعمیر کےحوالے سے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وہ کالا باغ ڈیم کے بارے میں اپنی رائے محفوظ رکھتے ہیں اور وہ وقت آنےپر ہی اس کا اظہار کریں گے۔ صدر جنرل مشرف کے اس بیان پر کہ سندھ کا مفاد انہیں سب سے عزیز ہے ارباب غلام رحیم نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ صدر مشرف سندھ کے مفاد کے خلاف کوئی فیصلہ نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ جب صدر مشرف اس پر عمل کریں گے تو عوام کو بھی یقین آجائے گا۔ اس سوال کے جواب میں کہ کیا کالا باغ ڈیم کی تعمیر سندھ کےمفاد میں ہے ارباب غلام رحیم نے کہا کہ سندھ کے عوام کی اس کے بارے میں ایک رائے ہے تاہم انہوں نے اس بارے میں اپنی ذاتی رائے کا اظہار نہیں کیا۔ سندھ کے اندرونی علاقوں اور کراچی میں جرائم کی روک تھام کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ جرائم کی شرح میں واضح کمی واقع ہوئی ہے۔ سندھ میں کئی نئے اضلاع قائم کیے جانے پر انہوں نے کہا یہ اقدام عوام کے مطالبے پر لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتظامی ’یونٹس‘ جتنے چھوٹے ہوں گے ان کا انتظام چلانا اتنا ہی آسان ہوتا ہے۔ انہوں نے اس بات کو تسلیم کیا کہ ان اضلاع کو قائم کرنے سے ان کا سیاسی مفاد بھی وابستہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ ظاہر ہے کہ حکمران جماعت اپنا سیاسی مفاد مدنظر رکھے گی اور اپنے مخالفین کے سیاسی مفاد کا خیال نہیں کرے گی۔ اس سوال پر کہ کیا ان اضلاع کے قائم کیے جانے میں انتخابی حلقہ بندیاں بھی ایک عنصر تھیں انہوں نے کہا کہ یہ عنصر بعد میں آتا ہے اصل میں یہ اقدام عوامی مطالبے اور بہتر انتظامیہ قائم کرنے کی وجہ سے لیا گیا ہے۔ ان اظلاع کے لیے مزید بھرتی کے بارے میں انہوں نے کہا کہ سندھ کے پاس اضافی اسٹاف موجود تھا جنہیں ان اظلاع میں تعینات کیا جائے گا۔ تھر پارکر میں کوئلے کے ذخائر کے بارے میں انہوں نےکہا کہ سندھ میں پائے جانے والے کوئلے کے ذخائر ایشیا میں سب سے بڑے ہیں۔ انہوں نے کہا یہاں سے ابھی کوئلہ نکالنے کے کام کا آغاز نہیں ہوا۔ اس سلسلے میں چین کے ساتھ ایک معاہدہ ہو گیا ہے اور جرمنی سمیت کئی دوسرے ملکوں کی کمپنیوں سے بات چیت چل رہی ہے۔ انہوں نےکہا کہ صدر مشرف کی حکومت میں آنے کے بعد ان ذخائر کا مکمل سروے کرایا گیا اور ’فیزبلٹی سڈیز‘ کروائی گئی ہیں۔ اس سے پہلے ان ذخائر کو سیاسی مفاد حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا گیا لیکن حقیقت میں کوئی کام نہیں کیا گیا۔ تھر پارکر سے کامیابی حاصل کرنے کے بعد شوکت عزیرنے کہا تھا کہ تھر پارکر کی تقدیر بدل دی جائے گی۔ شوکت عزیر کا یہ بیان جب ارباب غلام رحیم کو یاد دلایا گیا تو انہوں نے کہا کہ تھر پارکر میں ترقیاتی کام جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہاں ڈیجیٹل ٹیلی فون ایکسچینج قائم کر دیا گیا ہے اور ایک گرڈ اسٹیشن بھی قائم کیا جا رہا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||