BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 20 May, 2006, 14:21 GMT 19:21 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کرنل کے بیان پر برطانوی وضاحت

مارک لائل
مارک لائل نے نے پاکستان کے کردار کو سراہا
سنیچر کو پاکستان میں تعینات برطانوی ہائی کمشنر مارک لائل گرانٹ نے کہا ہے کہ افغانستان میں تعینات برطانوی فوجی کرنل کا بیان ان کی ذاتی رائے ہے اور کسی طور پر بھی ان کا بیان برطانوی حکومت کی پالیسی کا عکاس نہیں۔

افغانستان میں تعینات برطانوی فوج کے کرنل کِرس ویرنن سے منسوب برطانوی اخبار گارڈین نے جمعہ کو شائع ہونے والی ایک خبر میں کہا تھا کہ افغانستان میں حملوں کے لیئے پاکستان طالبان کو اپنی سرزمین’ہیڈکوارٹر‘ کے طور پر استعمال کرنے کی اجازت دے رہا ہے۔


لندن کے اخبار کے مطابق برطانوی کرنل کرِس ویرنن نے کہا تھا کہ طالبان کی قیادت افغانستان کے سرحدی شہر کوئٹہ سے اپنی کارروائیوں کا منصوبہ بناتی ہے۔ کرنل ویرنن جنوبی افغانستان میں تعینات برطانوی فوج کے سربراہ ہیں۔

پاکستان میں تعینات برطانوی ہائی کمشنر نے کہا ہے کہ ان کی حکومت کو پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقوں میں ہونے والی پرتشدد کارروائیوں پر تشویش ہے۔ انہوں نے پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ ’ہم جانتے ہیں کہ پاکستان حکومت کو بھی اس بارے میں تشویش ہے اور وہ اس خطرے سے نمٹنے کا عہد کیئے ہوئے ہے‘۔

ہائی کمشنر کا مزید کہنا ہے کہ برطانوی حکومت کو یہ بھی معلوم ہے کہ پاکستان کی افواج نے وسیع پیمانے پر اقدامات کر رکھے ہیں، پاک فوج نے کافی جانی نقصان بھی اٹھایا ہے اور سرحدی علاقوں میں قانون کی حکمرانی کے قیام کی صورتحال بھی بہتر کی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ برطانوی حکومت افغان مخالف طالبان اور دیگر حکومت مخالف گروہوں سے پاکستان اور افغانستان کی حکومتوں کے ساتھ مل کر لڑتی رہے گی۔

واضح رہے کہ برطانوی اخبار گارڈین نے اپنی خبر میں برطانوی کرنل کے حوالے سے کہا تھا کوئٹہ سے طالبان کی قیادت ’لگ بھگ 25‘ کمانڈروں کو کنٹرول کررہی ہے جو جنوبی افغانستان میں سرگرم ہیں۔

اخبار نے لکھا تھا کہ اسلام آباد میں موجود ایک برطانوی سفارت کار نے گارڈین کو بتایا: ’یہ واضح ہے کہ طالبان بے لگام ہیں۔۔۔۔ (تاہم) اس طرح کے شواہد نہیں ہیں کہ طالبان کے نیٹ ورک (پاکستان میں) ہیں لیکن ان کے لیے افغان پناہ گزین کمیپوں میں پناہ اختیار کرلینا آسان بات ہے۔‘

یاد رہے کہ برطانوی کرنل سے منسوب یہ خبر شائع ہونے سے محض ایک روز قبل افغانستان کے صدر حامد کرزئی سے منسوب ایک بیان میں بھی پاکستان پر دراندازی اور طالبان کی مدد کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔

حامد کرزئی کے بیان پر پاکستان کے وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری نے علیحدہ علیحدہ اپنے رد عمل میں سخت افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اس الزام کو مسترد کردیا تھا۔ جبکہ برطانوی فوجی کرنل کے بیان پر پاکستان کے فوجی ترجمان نے سخت رد عمل ظاہر کرتے ہوئے اسے ’لغو اور مضحکہ خیز قرار دیا تھا‘۔

برطانوی ہائی کمشنر کے بیان کے بعد جہاں پاکستان حکومت کے موقف کو تقویت ملی ہے وہاں پاکستان پر افغانستان اور امریکہ کی سربراہی میں موجود اتحادی افواج کی جانب سے سرحد پار دراندازی کے الزامات کی بھی نفی ہوتی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد