شوہر: شریکِ حیات ہونے کا اعتراف | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سوئی میں جنسی زیادتی کا شکار بننے والی ڈاکٹر شازیہ خالد کے شوہر امان اللہ خالد کو نیویارک میں مشکل ترین حالات میں اپنی اہلیہ کا ساتھ دینے پر سراہا گیا۔ خواتین کے حقوق کی عالمی تنظیم ایکوالٹی ناؤ کی منعقد کردہ تقریب میں دنیا بھر سے کئی ایسے مردوں کو چنا گیا تھا جنہوں نے خواتین کے حقوق کے لیے کام کیا یا اپنے خاندان کی خواتین کا ساتھ دیا۔ امان اللہ خالد کا تعارف کرتے ہوئے امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کے کالم نگار نکولس کرسٹوف نے کہا کہ ایک ایسے ملک میں جہاں یہ توقع کی جاتی ہے کہ اگر کسی عورت کے ساتھ جنسی زیادتی ہو تو اسے خود کشی کر لینی چاہیے، خالد نے نہ صرف اپنی بیوی کا پوری طرح ساتھ دیا بلکہ اس کی خاطر اپنی نوکری چھوڑ کر جلاوطنی بھی اختیار کی۔ ڈاکٹر شازیہ اور امان اللہ خالد آج کل پاکستان چھوڑ کر لندن میں رہائش پذیر ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے جان کے خطرے اور حکومت پاکستان کے دباؤ پر ملک چھوڑا ہے۔ اس سے پہلے خالد، جو کہ پیٹرولیم انجینئیر ہیں، لیبیا میں نوکری کر رہے تھے۔ نکولس کرسٹوف نے یہ بھی کہا کہ امان اللہ خالد نے اپنی بیوی کے ڈاکٹر، سائیکولوجسٹ، ساتھی اور باڈی گارڈ ہونے کے فرائض بیک وقت اور ایسے وقت انجام دیے جب وہ خود کشی کرنے کے درپے تھیں۔
خود خالد کے خاندان کے کچھ افراد نے ان کی اہلیہ کو ’کاری‘ کرنے کی بات کی لیکن انہوں نے اپنی بیوی کا ساتھ نہ چھوڑا اور مصر رہے کہ جو کچھ ہوا اس میں شازیہ کا کوئی قصور نہیں۔ اس موقع پر نکولس کرسٹوف نے بھرے ہوئے ہال کے سامنے پاکستانی انتظامیہ پر تنقید کی اور کہا: ’ ڈاکٹر شازیہ خالد کیس میں صدر جنرل پرویز مشرف سمیت پاکستانی انتظامیہ شروع سے جھوٹ بولتی آئی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ اس وقت بھی آئی ایس آئی کا کوئی آلہ کار حال میں موجود ہو گا‘۔ جب خالد اپنی بیوی شازیہ کے ساتھ سٹیج پر آئے تو نہ صرف پورا حال تالیوں سے گونج اٹھا بلکہ تمام لوگ اپنی اپنی نششتوں سے سے اٹھ کر کھڑے ہوگئے۔ لائیو جاز موسیقی کے علاوہ اس تقریب میں چار اداکاروں نے چار مردوں کی کہانیاں بھی پڑھ کر سنائیں۔ اس میں خالد کے دیگر افراد بھی شامل تھے۔ ایتھوپیا کے زبین نگاش جن کی تیرہ سالہ بیٹی کو اغوا کر کے اس کے ساتھ جنسی زیادتی کی گئی۔ ایتھوپیا میں رواج ہے کہ اگر کسی لڑکی کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے والا اس سے شادی کر لے تو وہ سزا سے بچ جاتا ہے۔ اور عمومًا خاندان اس لیے شادی پر راضی ہو جاتے ہیں کہ شاید کوئی اور اس لڑکی سے شادی نہ کرے۔ لیکن نگاش اپنی بیٹی کے ساتھ زیادتی کرنے والے سے شادی پر راضی نہ ہوئے اور انصاف کے حصول کے لیے جدوجہد کرنے لگے۔ امریکہ کے وکیل کینتھ فرنزبلاؤ جو امریکہ میں ایسی ٹورزم کمپنیوں کے خلاف تحقیقات کرتے ہیں جو لوگوں کو دور دراز ممالک میں جنسی مقاصد کے لیے خواتین فراہم کرنے کا وعدہ کرتی ہیں اور میکسیکو کی ایک ریاست میں فورنزک میڈیسن کے سابق سربراہ آسکر مینیز جنہوں نے اس لیے اپنے عہدے سے استعفٰی دے دیا کہ حکومت 1993 سے قتل ہونے والی کم از کم تین سو خواتین کے مقدموں پر توجہ نہیں دے رہی تھی۔ اس کے علاوہ کچھ اور مردوں کے کام کو بھی سراہا گیا جن میں امریکی ٹی وی اور فلموں میں خواتین کے لیے مضبوط کرداروں کے مصنف اور خالق جاس ویڈن بھی شامل تھے۔ ان کے کرداروں میں ’بفی دی ویمپائر سلیئر‘ شامل ہے جو ایک ایسی لڑکی ہے جو ویمپائر یا انسانوں کا خون پینے والی انسان نما مخلوقات کا خاتمہ کرتی ہے۔ ہالی وڈ کی مشہور اور دو دفعہ آسکر ایوارڈ جیتنے والی اداکارہ میرل سٹریپ نے، جو ایکوالٹی ناؤ کی مشاورتی کونسل کی رکن ہیں، اس موقع پر ایک نظم پڑھ کر سنائی۔ اس تقریب سے جمع ہونے والی رقم خواتین کے حقوق کی جدوجہد کے لیے ایکوالٹی ناؤ کے فنڈ میں جمع کی جائے گی۔ | اسی بارے میں شازیہ: غیر جانبدار کمیشن کی اپیل 16 May, 2006 | آس پاس ڈاکٹر شازیہ کا ٹیلی فون سے خطاب03 July, 2005 | آس پاس ڈاکٹر شازیہ خالد کوباہر کس نے بھیجا؟19 March, 2005 | پاکستان ڈاکٹر شازیہ بیرونِ ملک روانہ18 March, 2005 | پاکستان شازیہ: قومی اسمبلی میں احتجاج23 February, 2005 | پاکستان ’ڈاکٹر شازیہ بیرون ملک روانہ23 February, 2005 | پاکستان سوئی: ڈاکٹر شازیہ کا پہلا انٹرویو21 February, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||