عدالت کا حکم، کم عمر بچے آزاد | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حیدرآباد پولیس نے سپریم کورٹ کے حکم پر چوری کے الزام میں گرفتار دو کم عمر بچوں کو آزاد کردیا ہے،جبکہ ان کو زنجیروں سے باندھنے کے الزام میں دو پولیس اہلکاروں کو معطل کیا گیا ہے۔ شہر کی قاسم آباد پولیس نے اتوار کے روز چوری کے الزام میں دو بھائیوں چھ سالہ سعید، تیرہ سالہ اسد خاصخیلی اور مزمل کو گرفتار کیا تھا۔ تینوں کے خلاف واٹر پمپ سمیت گھروں سے چوری کے دو مقدمات درج کئے گئے تھے۔پولیس نے تینوں کے پاؤں میں بیڑیاں لگا کر تینوں کو حوالات میں بند کر دیا۔ تاہم دوسرے روز چھ سالہ سعید کو آزاد کردیا گیا۔ بچوں کی گرفتاری اور انہیں زنجیروں سے باندھنے کا سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے ازخود نوٹیس لیتے ہوئے حیدرآباد کے سیشن جج کو کم عمر بچوں کو آزاد کروانے کا حکم جاری کیا۔ سیشن جج حیدرآباد ظہیر الدین جمالی پیر کی شب رات کو ساڑہ بارہ بجے قاسم آباد تھانے پہنچ گئے جہاں مزمل موجود تھا جبکہ تیرہ سالہ اسد کے بارے میں پولیس نے بتایا کہ اسے جیل بھیج دیا گیا ہے۔ سیشن جج حیدرآباد ظہیر الدین جمالی نے اس موقع پر موجود میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ چیف جسٹس سپریم کورٹ کے سیکریٹری نے انہیں فون پر بتایا کہ چیف جسٹس نے ایک نجی چینل پر تین بچوں کی گرفتاری کی خبر کا نوٹیس لیا ہے اور ان کی آزاد کی حکم جاری کیا ہے۔ سیشن جج کے حکم پر مزمل کو شخصی ضمانت پر آزاد کیا گیا جبکہ جج نے سعید کے گھر جاکر اس کی آزاد کی تصدیق کی۔ بعد میں سیشن جج سینٹرل جیل حیدرآباد پہنچ گئے جہاں انہیں بتایا گیا کہ قانون کے تحت بچے کو رات کو آزاد نہیں کیا جاسکتا، بعد میں منگل کی صبح آٹھ بجے اسد کو آزاد کیا گیا۔
اسد نے بتایا کہ اس کا والد جھگڑے کے ایک مقدمے میں جیل میں بند ہے جبکہ گھر میں نو چھوٹے بہن بھائی ہیں، ماں اسے مزدوری کرکے پیسے لانے کو کہتی تھی۔ شہر کے پسماندہ علاقے شیدی گوٹھ کا رہائشی اسد خاصخیلی ناخواندہ ہے اس کے مطابق وہ کباڑی کا کام کرتا اور ایک ٹھیلے پر سامان جمع کرتا تھا وہ عادی چور نہیں ہے۔ اس نے بتایا کہ اس نے واٹر پمپ پانچ سو روپے میں کباڑی کو بیچا تھا۔ پولیس نے اس پر تشدد کیا اور اسے بڑے ملزموں کے ساتھ حوالات میں بند کر دیا تھا۔ حیدرآباد پولیس کے ایک اے ایس آئی اور ایک ہیڈ محرر کو معطل کیا گیا ہے مگر حکام پولیس کو بے قصور سمجھتے ہیں۔ ڈی پی او حیدرآباد پرویز چانڈیو نے کراچی میں بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پولیس بے قصور ہے کیونکہ اس سے قبل تین مرتبہ ان بچوں کو چوری کرتے پکڑا گیا تھا مگر راضی نامہ کرکے معاملہ رفع دفع کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ چوتھی مرتبہ تینوں بچوں کو چوری کے سامان سمیت تھانے پر لایا گیا اور مدعی نے ان پر مقدمہ درج کروایا۔ ڈی پی او کے مطابق انسانی ہمدردی کے تحت چھ سالہ سعید کو ایس پی انویسٹیگیشن نے خود آزاد کردیا تھا جبکہ اسد کو عدالت میں پیش کیا گیا جسے جیل بھیج دیا گیا۔ پرویز چانڈیو نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ قاسم آباد پولیس کے پاس حوالات کی عمارت نہیں ہے اس لئے بچوں کو تفتیشی پولیس نے پیروں میں زنجیر باندھ دی تھیں جس پر انچارج اور ہیڈ محرر کو معطل کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ پاکستان جونائیل جسٹس سسٹم آرڈیننس کے تحت پولیس تیرہ سال تک کے بچوں کو حوالات میں نہیں رکھ سکتی۔ | اسی بارے میں بچوں کو سب سے زیادہ خطرہ ہے15 October, 2005 | پاکستان بچے شکایت درج کرا سکیں گے25 November, 2004 | پاکستان ’اوپر سے حکم آئےگا تو بچہ ملےگا‘14 November, 2005 | پاکستان زلزلہ: 16 لاکھ بچوں کو سردی کا سامنا14 January, 2006 | پاکستان پاکستانی جیلوں میں قید بچے12 July, 2004 | پاکستان بے سہارا بچوں کی بہبود کا قانون08 June, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||