گوجرانوالہ: سات افراد کا قتل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بدھ کوگوجرانوالہ کے قریب ایمن آباد میں ایک ہی خاندان کے سات افراد کو گولیاں مار کر ہلاک کردیا گیا۔ یہ واقعہ صبح ساڑھے چھ بجے گوجرانوالہ کے پاس ایمن آباد کے نواحی گاؤں لالو پور میں پیش آیا۔ فائرنگ سے ہلاک ہونے والوں میں ایک شحض محمد رفیق، اس کی بیوی ممتاز بیگم، تین بیٹیاں عالیہ اور سائرہ اور دو بیٹے ابو سفیان اور عرفان شامل ہیں۔ پولیس نے مقتول کے چچا زاد بھائی محمد علی سمیت پانچ ملزموں کے خلاف اس قتل کا مقدمہ درج کرلیا ہے اور اس کامحرک جائیداد پر خاندانی جھگڑا بتایا ہے۔ پولیس کے مطابق خاندان کے سربراہ رفیق کو اس کے ڈیرے پر گولیاں مار کر ہلاک کیا گیا جہاں وہ گائے کا دودھ دوہ رہا تھا۔ ایف آئی آر میں الزام لگایاگیا ہے کہ ملزم صبح کے وقت محمد رفیق کے گھر داخل ہوئے او ر انہوں نے مختلف کمروں میں جاکر سوئے ہوئے لوگوں پر فائرنگ کرکے انہیں ہلاک کردیا۔ پولیس کے مطابق قتل کا محرک جائیداد کا جھگڑا ہے۔ مقتول محمد رفیق کا اپنے کزن محمد علی کے ساتھ آٹھ ایکڑ زمین کی ملکیت پر جھگڑا چل رہا تھا جس کی وجہ سے دونوں خاندانوں میں سخت کشیدگی تھی۔ مقتول نے قتل کے بڑے ملزم محمد رفیق پر جان سے مار دینے کی دھمکیوں اور چوری سمیت دو الگ الگ مقدمہ درج کرا رکھے تھے۔ چوری کے ایک مقدمہ اس کا ایک بیٹا مشتاق نامزد تھے اور ایک دن پہلے پولیس نے انہیں حراست میں لیا تھا۔ تاہم گزشتہ منگل کو ملزم رفیق اپنے بیٹے کو اس یقین دہانی پر پولیس سے رہا کرواکے لائے تھے کہ انہیں بدھ کے روز پیش کردیں گے۔ گوجرانوالہ کے ایس پی پولیس شیخ صدیق کاکہنا ہے کہ پولیس ملزموں کی گرفتاری کے لیے چھاپے مار رہی ہے۔ | اسی بارے میں سگے بھائی پولیس کے ہاتھوں قتل 19 January, 2005 | پاکستان ایک ہی خاندان کے سات افراد قتل24 January, 2005 | پاکستان ایک ہی خاندان کے چار افراد قتل01 October, 2004 | پاکستان کراچی: مذہبی رہنماء کا قتل09 July, 2005 | پاکستان برطانوی بیوی کے قتل کا چالان پیش15 August, 2005 | پاکستان لاہور میں پانچ افراد قتل04 December, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||