برطانوی بیوی کے قتل کا چالان پیش | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے شہر میرپور میں استغاثہ نے پیر کے روز ایک مقامی شخص پر کشمیری نژاد برطانوی شہریت کی حامل بیوی کو قتل کرنے کے الزام میں مقامی ضلعی فوجداری عدالت میں چالان داخل کیا۔ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں حالیہ برسوں میں یہ اپنے نوعیت کا پہلا واقعہ ہے جس میں ایک مقامی کشمیری پر کسی غیرملکی بیوی کو قتل کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ کشمیری نژاد برطانوی شہری تیس سالہ شگفتہ نازنین اقبال کی شادی چھ سال قبل اپنے ایک رشتہ دار فیاض احمد سے میرپور میں ہوئی تھی۔ شگفتہ کے دو بچے ہیں ان میں دو سالہ دانیال اور دس ماہ کا فراز ہیں جو دونوں شگفتہ کے والدین کے ساتھ برطانیہ کے علاقے بلیک برن میں ہیں۔ اشتغاثہ راجہ فیاض حیدر نوابی نے عدالت کو بتایا کہ شگفتہ نازنین اقبال کے شوہر فیاض احمد کے خلاف اپنی بیوی کو قتل کرنے کے ٹھوس واقعاتی اور طبعی شواہد ہیں۔ انھوں نے عدالت کو بتایا کہ پوسٹ مارٹم اور کیمیائی تجزیاتی رپورٹ سے اس بات کی تصدیق ہوگئی ہے کہ شگفتہ کو زہر دیا گیا۔ اس زہر کا کچھ حصہ ملزم سے بھی برآمد ہوا تھا۔ لیکن شگفتہ کے شوہر فیاض احمد ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔ تاہم وہ قتل کے الزام میں میرپور جیل میں ہیں ۔ دونوں خاندانوں کی یہ خواہش تھی کہ شگفتہ کے شوہر بھی برطانیہ میں سکونت اختیار کریں ۔ لیکن شگفتہ کے شوہر فیاض کسی وجہ سے برطانیہ کا ویزا حاصل کرنے میں ناکام رہے اور وہ برطانیہ نہیں جاسکے۔ شادی کے بعد شگفتہ برطانیہ میں ہی رہیں لیکن اس دوران وہ کھبی کبھار اپنے شوہر کے پاس میرپور آتی رہیں ۔شگفتہ اپنے دو سالہ بیٹے فیاض کے ہمراہ چھ مارچ کو اپنے شوہر کے گھر ایک بار پھر میرپور آئیں لیکن یہ ان کا آخری سفر ثابت ہوا۔ 27 مارچ کی رات کو وہ اپنے سسرال والوں کے گھر مردہ پائی گئیں تھیں۔ شگفتہ کے والد کا کہنا ہے کہ وہ اس شادی کے خلاف تھے لیکن وہ خاندان والوں کے دباؤ کی وجہ سے مجبور ہوئے۔ انکا کہنا ہے کہ وہ اب صرف انصاف چاہتے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||