BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 19 March, 2006, 16:32 GMT 21:32 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’حکومت بلوچ مطالبات مان لے‘

فوج
عبدالحئی بلوچ نے کہا کہ فوجی آپریشن کا مقصد سیاسی ہے
نیشنل پارٹی کے رہنما ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ نے کہا ہے کہ اگر حکومت بلوچوں کے مطالبات مان لے تو بلوچ مثبت جواب دیں گے۔

تینوں مطالبات کی تفصیل بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر حکومت فوج کو بیرکوں میں واپس بھیج دے، بلوچ قائدین اور کارکنوں کو رہا کرکے اور ان کے خلاف مقدمات واپس لے تو بلوچ ضرور مثبت جواب دیں گے۔

ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ نےحکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ فوجی آپریشن سیاسی قائدین کے خلاف مقدمات اور کارکنوں کی گرفتاریاں صرف اور صرف بلوچستان کے قیمتی وسائل پر قبضے کے لیے کی جا رہی ہیں۔

کوئٹہ میں ضلع کیچ سے تعلق رکھنے والے خان محمد جان نے اتوار کو اخباری کانفرنس میں الزام لگایا کہ فرنٹیئر کور کے اہلکار ان کے بھائی راجہ احمد خان کو انتیس دسمبر کو اٹھا کر لے گئے ہیں اور اب تک انہیں عدالت میں پیش نہیں کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ احمد خان خلیجی ممالک میں فوج کی ملازمت سے ریٹائر ہو کر واپس وطن آئے تھے کہ یہاں گرفتار کر لیے گئے ہیں۔

فوج بیرکوں میں واپس جائے: ڈاکٹر حئی

دریں اثناء صوبہ بلوچستان کے علاقے مچھ میں پیر غائب کے مقام پر نا معلوم افراد نے شناخت کے بعد تین افراد پر گولیاں چلائی ہیں جن میں دو ہلاک اور ایک زخمی ہوا ہے۔

بلوچستان حکومت کے ترجمان رازق بگٹی نے بتایا کہ کچھ لوگ پیر غائب کے مقام پر پکنک منانے گئے تھے جہاں کچھ مسلح افراد آئے اور ان کی شناحت کی گئی بعد میں صوبہ پنجاب سے تعلق رکھنے والے تین افراد پر گولیاں چلائی گئیں جن میں سے دو ہلاک اور ایک زخمی ہوا ہے جسے مچھ ہسپتال داخل کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ حملہ آور فرار ہوتے وقت لیویز (علاقائی پولیس) کے دو اہلکار اپنے ساتھ لے گئے ہیں۔

رازق بگٹی نے کہا ہے کہ حکومت کے ساتھ جھگڑے میں بے گناہ اور معصوم لوگوں کو نشانہ بنانا غیر انسانی فعل ہے جس کی ہر طبقے کے لوگ مذمت کریں۔

انہوں نے کہا ہے کہ اس سے پہلے اسی ضلع بولان اور مکران ڈویژن میں اس طرح کے واقعات پیش آچکے ہیں۔

اس کے علاوہ ادھر ڈیرہ بگٹی اور کوہلو کے سرحدی علاقے کرمو وڈھ سے فرنٹیئر کور کی چوکی پر راکٹ داغے جانے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں لیکن سرکاری سطح پر اس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

فرنٹیئر کور کے ترجمان نے کہا ہے کہ ان کے پاس اب تک راکٹ داغے جانے کی اطلاع موصول نہیں ہوئی جبکہ صوبائی حکومت کے ترجمان نے کہا ہے کہ اس علاقے میں اس طرح کے واقعات پیش آتے رہتے ہیں لیکن اتوار کو انہیں کوئی اطلاع نہیں ملی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد