پاک بھارت، جوہری فہرستوں کا تبادلہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان اور بھارت نے نئے سال کے پہلے روز جوہری تنصیبات کی فہرست کا تبادلہ کیا ہے۔ جوہری تنصیبات کی فہرست کا یہ تبادلہ ایک دوسرے کی جوہری تنصیبات پر حملہ نہ کرنے کے اس معاہدے کے تحت کیا گیا جو دونوں ممالک نے انیس سو اٹھانوے میں کیا تھا۔ پاکستانی دفتر خارجہ نے اسلام آباد میں پاکستانی جوہری تنصیبات کی تفصیل بھارتی ہائی کمیشن کے ایک اہلکار کےحوالے کی جبکہ بھارت کے دارالحکومت نئی دلی میں یہ فہرست پاکستانی ہائی کمیشن کے حوالے کی گئی۔ پاکستان اور بھارت گزشتہ دو برسوں سے جوہری ہتھیاروں کے بارے میں اعتماد سازی کے بارے میں مذاکرات کر رہے ہیں اور گزشتہ برس دونوں ممالک ایک دوسرے کو بیلسٹک میزائل کے تجربوں کی پیشگی اطلاع دینے پر رضا مند ہو گئے تھے۔ اس کے علاوہ دونوں ممالک کے درمیان جوہری معاملات پر ہاٹ لائن بھی قائم کی گئی۔ یہ مذاکرات دونوں ممالک کے درمیان کسی بھی حادثاتی جوہری جنگ کو روکنے کے لیے اقدامات کرنے کے بارے میں کیے جا رہے ہیں۔ پاکستان دفتر خارجہ سے جاری ہونی والی ایک پریس ریلیز میں فہرستوں کی جزیات کے بارے میں تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔ خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق دونوں ممالک نے انیس سو اٹھانوے میں جوہری تجربات کیے تھے۔ انیس سو اٹھانوے میں ہونے والے اس معاہدے کےتحت دونوں ممالک ہر سال یکم جنوری کو جوہری تنصیبات کی فہرست کا تبادلہ کرتے ہیں۔ اس فہرست میں عام طور پر سویلین جوہری پاور پلانٹس کے ساتھ ان کے جائے وقوعہ بھی بتائی جاتی ہے۔ جوہری تنصیبات کی ان فہرستوں کا تبادلہ پاکستان اور بھارت کے درمیان دہلی میں ہونے والے امن مذاکرات کے تیسرے راؤنڈ سے دوہفتے پہلے ہوا ہے۔ سترہ جنوری کو ہونے والے دو روزہ مذاکرات میں پاکستانی وفد کی قیادت سیکرٹری خارجہ کریں گے۔ | اسی بارے میں ’جوہری نمونےحوالے کیے ہیں‘26 May, 2005 | پاکستان جوہری امور، پاک بھارت مذاکرات05 August, 2005 | پاکستان جوہری امور پر پاک بھارت اعتماد سازی06 August, 2005 | پاکستان جوہری تنصیبات محفوظ ہیں13 October, 2005 | پاکستان جوہری مواد، برآمد پر ضوابط سخت 27 December, 2005 | پاکستان جوہری بجلی کے پلانٹ پر کام شروع28 December, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||