BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 27 September, 2005, 19:30 GMT 00:30 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اُردو، پنجابی: حروفِ تہجی کا مسئلہ

پنجابی رسم الخط
ورکشاپ کے کلیدی مقّرر سعید کریم تھے جو کہ پیشے کے لحاظ سے انجینئر ہیں
پنجاب انسٹیٹیوٹ آف لینگویج، آرٹ اینڈ کلچر کے زیرِ اہتمام لاہور میں ایک ورکشاپ منعقد کی گئی ہے جِس میں پنجابی رسم الخط کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے طریقے زیرِ بحث آئے۔

پنجابی رسم الخط کے مسائل بُنیادی طور پر تو وہی ہیں جو اُردو رسم الخط کے ہیں یعنی جنوبی ایشیا کی ایک زبان جسے لکھنے کے لئے عربی نِظامِ ہجّا استعمال کیا جاتا ہے۔

لاہور میں منعقدہ ورکشاپ کے کلیدی مقّرر تھے سعید کریم جو کہ پیشے کے لحاظ سے انجینئر ہیں لیکن گزشتہ بیالیس برس سے پنجابی رسم الخط پر کام کر رہے ہیں۔

سعید کریم نے پنجابی کے لئے نئی ابجد کا جو نظام مرتب کیا ہے اس میں زیر، زبر، پیش سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے ہر واول آواز کے لئےایک الگ حرفی علامت رکھی گئی ہے اور یوں الف سے لے کر ’ی‘ تک حروف کی کُل تعداد 66 تک پہنچ گئی ہے۔

سعید کریم کا دعویٰ ہے کہ اگر ان کا تجویز کردہ نظام اپنا لیا جائے تو نہ صرف پنجابی بلکہ خود اُردو اِملاء کے تمام مسائل بھی حل ہو جائیں گے۔

رسم الخط کو سائنٹفک بنانے اور اسے ’ ایک آواز - ایک علامت‘ کے اصول پر مرتب کرنے کی کوشش پچھلے پچاس برس سے جاری ہے۔

ہماری املاء کا ایک بنیادی مسئلہ یہ بتایا جاتا ہے کہ دس واول آوازوں کے لئے ہمارے پاس صرف تین علامتیں ہیں یعنی الف، واؤ اور ’ی‘۔

لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ یہ کم مائیگی ہماری تحریر کے راستے میں کبھی حائل نہیں ہوئی۔ اُردو کی دس واول آوازوں کو سمجھنے کے لئے ان دس الفاظ پر غور کیجئے: ’مِل ۔ مِیل، مل ۔ مال، مُل ۔ مُول، میل، مَیل، مول، مَول‘ گویا ہم اپنے ناقص نظامِ ہجّا کے باوجود تمام آوازوں کو تحریری شکل دے سکتے ہیں۔

مصلحینِ زبان اس بارے میں کہتے ہیں کہ زیر، زبر، پیش چونکہ عملاً استعمال نہیں کی جاتی اس لئے نیا سیکھنے والا بڑی مشکل میں پڑ جاتا ہے، چنانچہ حروف کے اوپر نیچے لگنے والی علامتوں کو ختم کر کے ہر واول کو ایک الگ حرف کی شکل دے دی جائے جیسا کے انگریزی یا رومن حروف میں لکھی جانے والی دیگر زبانوں میں ہوتا ہے۔

 حروف تہجی
پاکستان اور بھارت میں اس وقت اُردو کے کئی اعلیٰ سافٹ وئر کام کر رہے ہیں

اس طرح کی آراء ساٹھ کی دہائی میں آنا شروع ہوئیں جِن کا بُنیادی مقصد اُن لوگوں کی کارروائیوں کو روکنا تھا جو اُردو رسم الخط کو ختم کر کے ترکی کے ماڈل پر رومن رسم الخط کو رواج دینا چاہتے تھے یعنی اُرود کو اے۔ بی۔ سی۔ ڈی میں لکھنے کے حامی تھے۔

’رومن اُردو‘ کی روایت پاک و ہند میں دو تین صدیوں سے موجود تھی اور ہندوستان میں مقیم انگریز فوجیوں کو اسی رسم الخط میں اُردو سکھائی جاتی تھی۔

1960 کے عشرے میں اُردو ٹائپ رائٹر کے لئے ایک معیاری کی بورڈ بنانے کا مسئلہ سامنے آیا تو اُردو حروف کی مختلف شکلوں اور لفظوں کے جوڑ بٹھانے کے لئے مختلف طریقوں کی بحث ایک بار پھر منظرِ عام پر آگئی۔

اس بات پر سبھی متفق دکھائی دیتے تھے کہ نستعلیق لکھائی میں حروف کو جوڑنے کے اتنے زیادہ طریقے ہیں کہ اسے سادہ مشینی عمل میں ڈھالنا آسان نہیں چنانچہ خطِ نسخ پر اکثریت کا اتفاق ہو گیا جِس میں جوڑ بٹھانے کے طریقے محدود ہیں۔

اس کے بعد ستر کی دہائی میں خطِ نسخ پر اتنا زور دیا گیا کہ بچّوں نے دستی لکھائی کے لیے بھی یہی خط اپنا لیا اور اُس دور میں جِن بچوں کی لکھائی خراب ہوئی وہ آج تک خوبصورت انداز میں لکھنے سے قاصر ہیں۔

اسی کی دہائی میں ایک مرحلہ یہ طے ہوا کہ ’ نوری نستعلیق‘ کے نام سے اُردو لکھائی کی ایک کمپیوٹری شکل منظرِ عام پر آئی اور اسے اُردو کے کثیر الاشاعت روزنامے جنگ نے اپنانے میں پہل کی جس کی بدولت یہ طریق کار راتوں رات ملک بھر میں متعارف بھی ہو گیا۔ اس سے پہلے اُردو کا چھاپا خانہ نستعلیق میں کتابت اور نسخ میں صِرف مفرد حروف کے ساتھ کام کرتا تھا لیکن نئے نظام میں دو حرفی، سہ حرفی، چار حرفی اور پنج حرفی مرکبات بھی کمپیوٹر میں فِیڈ کئے گئے تھے۔ گویا اُردو حروف کے جوڑ بٹھانے کا وہ مسئلہ جو دوسوسال سے دردِ سر بنا ہوا تھا بنیادی طور پر حل ہوگیا اور اس کے ساتھ ہی یہ خیال کیا جانے لگا کہ ٹائپ رائٹر بھی چونکہ گھریلو کمپیوٹر کی آمد کے بعد قصّہ پارنیہ بن چکا ہے اس لیے معیاری ’کی بورڈ‘ کی بحث بھی اب غیر متعلق ہو گئی ہے

پاکستان اور بھارت میں اس وقت اُردو کے کئی اعلیٰ سافٹ وئر کام کر رہے ہیں اور ان میں روز بروز نکھار آتا جا رہا ہے لیکن اس تمام تکنیکی پیش رفت کے باوجود مصلحینِ زبان کا اصرار ہے کہ لکھائی چھپائی کے معاملے میں:

’ گیسوئے اردو ابھی منتِ پذیر شانہ ہے‘

اور سعید کریم اس میں ’ گیسوئے پنجابی‘ کو بھی شامل کر رہے ہیں۔ لاہور میں منعقدہ اپنی ورکشاپ میں انھوں نے کہا کہ اُردو کا موجودہ رسم الخط چونکہ خود اُردو آوازوں کا بھی پورے طور پر احاطہ نہیں کرتا تو پنجابی جس میں کچھ مزید آوازیں بھی شامل ہیں، کس طرح اس رسم الخط میں کامیابی سے تحریر کی جا سکتی ہے۔

سعید کریم نے اس موقعے پر واول حروف کی کچھ اضافی شکلیں تجویز کیں اور ایک خوبصورت سلائیڈ شو کے ذریعے اُن کے عملی استعمال کو بھی واضح کیا۔

محفل کے شرکاء میں ایسے لوگوں کی اکثریت تھی جو سمجھتے ہیں کہ موجودہ نظامِ ہجّا میں کسی بنیادی تبدیلی کی ضرورت نہیں ہے اور نہ ہی حروف ابجد میں اضافہ ضروری ہے۔ ان کا موقف تھا کہ اِنہی فارسی ۔ اُردو حروف میں وارث شاہ نے اپنی ہیر لکھی تھی جو کہ آج کل عالمی کلاسیک کا درجہ رکھتی ہے۔ رسم الخط میں تبدیلی کے مخالفین کا رویّہ خاصا جذباتی اور جارحانہ تھا اور اگر انسٹی ٹیوٹ کی ڈائریکٹر، ڈاکٹرشائستہ نزہت اپنی معاملہ فہمی اور انتظامی مہارت کو کام میں نہ لاتیں تو شاید یہ محفل تُو تُو میں میں کی نذر ہو جاتی۔

مہمانِ خصوصی پروفیسر افضل توصیف صاحبہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ املاء اور پرنٹنگ کے مسائل تو بہت بعد کی بات ہیں، سب سے پہلے تو پنجابی کو تدریسی اداروں میں جگہ ملنی چاہیئے۔ جب ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں لوگ پنجابی زبان پڑھ رہے ہوں گے تو اس طرح کے چھوٹے موٹے مسائل کا حل بھی ساتھ ساتھ نکل آئے گا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد