BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 05 September, 2005, 21:40 GMT 02:40 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستان و بھارت: آپٹک فائبر رابطہ

’آپٹک فائبر‘
آپٹک فائبر لائن اینالاگ کیبل کی جگہ بچھائی جارہی ہے
انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کمیونیکشن کے وفاقی وزیر اویس احمد خان لغاری نے پیر کے روز قومی اسمبلی کو بتایا ہے کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان رابطہ بحال کرنے کے لیے ’آپٹیک فائبر‘ لائن بچھائی جا رہی ہے۔

وقفۂ سوالات کے دوران متحدہ مجلس عمل کے رکن محمد حسین محنتی کے سوال پر پیش کردہ تحریری جواب میں وزیر نے کہا کہ اس لائن بچھانے پر دو کروڑ چالیس لاکھ روپوں کی لاگت کا تخمینہ ہے۔

وزیر کے مطابق باٹا پور لاہور سے واہگہ بارڈر تک سن انیس سو اسی میں اینالاگ کیبل بچھائی گئی تھی جو اپنی مدت پوری کرچکی ہے اس لیے یہ نئی لائن اس کی جگہ بچھائی جارہی ہے۔

وقفہ سوالات کے دوران وزیراطلاعات شیخ رشید احمد نے ایک سوال پر ایوان میں پیش کردہ معلومات میں بتایا ہے کہ ’ہمارا خواب پڑھا لکھا پنجاب، کے عنوان سے پنجاب حکومت نے پاکستان ٹیلی ویزن پر جو اشتہار دیے تھے ان کی مالیت تین کروڑ روپوں سے بھی زیادہ ہے۔

ان کے مطابق پنجاب حکومت نے تاحال رقم ادا نہیں کی اور پی ٹی وی والے ان سے رقم وصول کرنے کے لیے بات چیت کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ پنجاب حکومت کی اس اشتہاری مہم کے دوران ملک کے نجی ٹی وی چینلز، اخبارات اور جرائد میں بھی بڑے بڑے رنگین اشتہار شایع کرائے گئے تھے۔ جس پر کئی حلقوں نے اعتراضات اٹھائے تھے کہ جتنی مالیت کے اشتہار دیے گئے ہیں اس رقم سے بیسیوں سکول تعمیر کیے جاسکتے تھے۔

قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات شروع ہوا تو پہلے ہی سوال کے جواب کے لیے جب پارلیمانی امور کے وزیر ڈاکٹر شیر افگن سے ڈپٹی سپیکر نے جواب دینے کے لیے کہا تو انہوں نے انکار کردیا کہ ’میں جواب نہیں دوں گا،۔

ماضی میں متعلقہ وزیر کی غیر موجودگی اکثر طور پر پارلیمانی امور کے وزیر جواب دیتے تھے لیکن حالیہ بلدیاتی انتخابات میں ڈاکٹر شیر افگن کے حامیوں کی ناکامی پر ان کی حکومت سے ناراضگی کی خبریں بھی آتی رہی ہیں۔

اس کے بعد ڈپٹی سپیکر نے وزیر قانون وسیع ظفر کو جواب دینے کے لیے درخواست کی تو انہوں نے کہا کہ ان کا سٹیبلشمینٹ ڈویزن سے واسطہ نہیں اور نہ ہی انہیں بریف کیا گیا ہے لیکن وہ جواب دیں گے۔

اس پر حزب اختلاف والوں نے ایوان میں احتجاج کیا کہ وزراء اسمبلی کی کارروائی میں سنجیدہ نہیں ہیں۔

عنایت بیگم کے سوال پر ایوان کو بتایا گیا کہ پاکستان کی سول بیوروکریسی کے ٹاپ گریڈ یعنی اکیس اور بائیس میں دو سو عہدے ہیں۔ جس میں سے ایک سو چھتیس پر پنجاب، چھبیس پر سندھ، اٹھائیس پر صوبہ سرحد جبکہ چھ پر بلوچستان کا ڈومیسائئل رکھنے والے افسر تعینات ہیں۔

وزیر کے مطابق گریڈ بائیس میں کوئی خاتون افسر نہیں ہے جبکہ گریڈ اکیس میں پنجاب، سندھ اور سرحد کی ترتیب وار پانچ، دو اور ایک خاتون افسر کام کر رہی ہیں۔

اس پر لیاقت بلوچ، راجہ پرویز اشرف اور دیگر اراکین نے اعتراض کیا کہ ایک تو صوبوں کا کوٹہ پورا نہیں ہے اور دوسرا خواتین کو کیوں آگے نہیں لایا جاتا؟

وزیر نے کہا کہ کوٹہ بھرتی میں ہوتا ہے ترقیوں میں نہیں۔ متحدہ قومی مووومینٹ کے کنور خالد یونس نے لیاقت بلوچ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ جو خواتین کو ووٹ دینے نہیں دیتے وہ آج خواتین کو اعلیٰ گریڈ میں تعینات کرنے کی بات کیسے کر رہے ہیں۔

جس کے جواب میں فرید پراچہ نے ان کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ( ایم کیو ایم) والے تو مردوں کو بھی ووٹ دینے نہیں دیتے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد