BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 01 July, 2005, 07:21 GMT 12:21 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
انٹر نیٹ کی بحالی میں مزید تاخیر

جنید خان
جنید خان نے کہا ہے کہ اضافی سٹلائٹ چینل حاصل کر لیے گئے ہیں
پاکستان کے ٹیلی مواصلات کے سرکاری ادارے ’پی ٹی سی ایل‘ کے سربراہ جنید خان کا کہنا ہے کہ زیرِ سمندر انٹرنیٹ کے فائبر لِنک میں فنی خرابی کی وجہ سے انٹرنیٹ اور بین الاقوامی ٹیلی فون سروس میں تعطل کو دور کرنے میں مزید تین سے چار دن لگیں۔

جنید خان نے بی بی سی ڈاٹ کام سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اس خرابی کو دور کرنے کے لیے متحدہ عرب امارات سے آنے والے بحری جہاز کی آمد میں سمندر میں طوفان کی وجہ سے تاخیر ہو گئی ہے اور اب یہ جہاز ہفتے کو پاکستان کی سمندری حدود میں پہنچےگا۔

اس خرابی کی وجہ سے ملک میں انٹرنیٹ کمپنیوں، انٹرنیٹ کیفے، بینک، کال سینٹرز، اسٹاک ایکسچینج، فضائی کمپنیوں سمیت بہت سے کاروباری اداروں کا کام بہت متاثر ہوا ہے۔ انٹرنیٹ میں اس تعطل کی وجہ سے حکومتی اور نجی کمپنیوں کو کروڑوں ڈالر کا نقصان ہوا ہے مگر نہ تو حکومتی عہدیدار اور نہ ہی نجی ادارے اس بارے میں کوئی حتمی اندازہ لگا پائے ہیں۔

پاکستان کے لاکھوں انٹرنیٹ صارفین اپنے دفاتر، گھروں اور انٹرنیٹ کیفے پر گزشتہ چار روز سے اس امید پر اپنے فون نمبر لگا کرانتظار کرتے ہیں کہ شائد اس بار وہ انٹرنیٹ سے رابطہ بحال کر لیں مگر تھوڑی دیر بعد جب وہ براؤزنگ نہیں کر پاتے تو جھنجلا کر دوبارہ کوشش کرتے ہیں اور آخر کار تھک ہار کر بیٹھ جاتے ہیں ۔

مگر پی ٹی سی ایل کے چیئرمین کا کہنا ہے کہ ایسا اب شاید چار دن بعد ہی ممکن ہو سکے کہ انٹرنیٹ صارفین کو انٹرنیٹ کی وہ سپیڈ مل پائے جس سے وہ انٹرنیٹ کے ذریعے کسی سے ذاتی یا کاروباری بات چیت کر سکیں یا چیٹ روم میں داخل ہو سکیں۔

انہوں نے کہا کہ اس بحری جہاز پر فائبر کیبل ٹھیک کرنے کے تمام ضروری آلات اور کیبل موجود ہوتی ہے لہذا ان کو امید ہے کہ اس خرابی کو اس بحری جہاز کے پاکسان کی سمندری حدود میں پہنچنے کے بعد دو دن کے اندر ٹھیک کر لیا جائے گا۔

انہوں نے بتایا کہ پی ٹی سی ایل نے متبادل انٹرنیٹ نظام کے طور پر سیٹلائٹ کے ذریعے انٹرنیٹ رابطے کے لیے پانچ لاکھ ڈالر خرچ کر کے کچھ سرکٹ حاصل کئے ہیں ۔

پاکستان میں انٹرنیٹ صارفین کی ضروریات چار سو سے پانچ سو میگا بائٹ فی سیکنڈ کی ہیں جبکہ اس وقت صارفین کو صرف ایک سو میگا بائٹ مل رہی ہیں۔ تاہم ’پی ٹی سی ایل‘ حکام کا کہنا ہے کہ سیٹلائٹ سے سرکٹ حاصل کرنے کے بعد اب صارفین کو خصوصاً کمرشل صارفین کو دو سو میگا بائٹ تک بینڈوڈتھ مل رہی ہے۔

پاکستان میں اس وقت پچاس سے زائد انٹرنیٹ فراہم کرنے والی کمپنیاں کام کررہی ہیں جن کے تقریباً ایک کروڑ کے لگ بھگ صارفین ہیں۔

اسلام آباد کے انٹرنیٹ کیفیز کے مالکان کا کہنا ہے کہ گزشتہ دو روز سے ان کا کاروبار بری طرح متاثر ہوا ہے۔اسلام آباد کے کچھ انٹرنیٹ کیفے تو چند روز کے لئے بند کر دئے گئے ہیں جبکہ کچھ اس امید پر کھلے ہیں کہ شائد انٹرنیٹ کی یہ خرابی جلد ہی دور ہو جائے۔

اسی طرح اسلام آباد میں واقع کال سینٹرز کا کام بھی بری طرح متاثر ہوا ہے۔ ایک کال سینٹر ٹچ سٹون کے مالک فرخ اسلم کا کہنا ہے کہ ان کے دو کلائنٹ اس انٹرنیٹ رابطے میں خرابی کے باعث ان کی کمپنی سے معاہدہ ختم کر چکے ہیں اور انہیں ڈر ہے کہ مزید گاہک بھی ایسا کر سکتے ہیں۔

پی ٹی سی ایل انتظامیہ کا موقف ہے کہ ایسی خرابی گزشتہ پانچ سال میں پہلی مرتبہ ہوئی ہے تاہم انٹرنیٹ صارفین کا کہنا ہے کہ پی ٹی سی ایل کو کم از کم کوئی متبادل ذریعہ تو بیک اپ کے طور پر رکھنا چاہئے تاکہ مستقبل میں ایسی کوئی بات نہ ہو۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد