BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 30 August, 2005, 09:55 GMT 14:55 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مسافروں کیلیے بجلی قیامت بن گئی

بس کا حادثہ
بس میں سوار پچاس میں سے بہت کم مسافر بچ پائے ہیں
پنجاب کے شہر رحیم یار خان کے قریب منگل کے روز ایک مسافر بس بجلی کی ہائی ٹرانسمیشن لائن سے ٹکرا گئی جس سے اس میں آگ لگ گئی۔ اس واقعہ میں کئی لوگوں کے ہلاک ہونے کا اندیشہ ہے۔

پولیس حکام ہلاک ہونے والوں کی تعداد بارہ اور زخمیوں کی تعداد چھ بتا رہے ہیں جبکہ بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ بس میں سوار پچاس میں سے بہت کم مسافر بچ پائے ہیں۔

مسافروں سے بھری بس نواحی علاقے بنگلہ منٹھار سے رحیم یار خان شہر کی طرف آرہی تھی کہ راستے میں پل سینتیس کے ایک قریب ایک دوسری بس اور ٹریکٹر ٹرالی کے درمیان تصادم کے باعث ٹریفک کی آمدورفت معطل تھی۔

اس پر منٹھار سے آنے والی بس کے ڈرائیور نےگاڑی کو چمن مائنر (ایک چھوٹی نہر کا نام) کے ساتھ متبادل راستے پر ڈال دیا۔ پولیس کے مطابق بس کی چھت پر ایک بائی سائیکل بھی رکھی ہوئی تھی جو چک ایک سو سینتیس کے قریب بجلی کی گیارہ کے وی (گیارہ ہزار وولٹ) ہائی ٹرانسمیشن لائن سے ٹکرا گئی۔

اس پر بس میں کرنٹ دوڑ گیا اور بعد میں آگ لگ گئی۔ رحیم یار خان کے ضلعی پولیس افسر احسن محبوب کے مطابق مرنے والوں کی تعداد بارہ ہے جن میں سے ایک کو اس کے لواحقین موقع سے ہی ساتھ لے گئے جبکہ باقی گیارہ لاشیں شیخ زید ہسپتال میں رکھوائی دی گئی ہیں۔ چھ زخمیوں کو بھی اسی ہسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔

شیخ زید ہسپتال کے شعبہ ایمر جنسی کے ڈائریکٹر ڈاکٹر امجد برق کے مطابق ہسپتال آنےوالی لاشیں اس حد تک جل چکی ہیں کہ ان کی شناخت ممکن نہیں جبکہ چھ زخمیوں میں سے بھی ایک کی حالت تشویشناک ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جائے حادثہ پر جانے والے ہسپتال کے عملے کے مطابق بس میں سوار پچاس کے لگ بھگ مسافروں میں سے صرف زخمی ہونے والے چھ افراد ہی زندہ بچ پائے ہونگے۔

تاہم ضلعی پولیس افسر کا اصرار تھا کہ مرنے والوں کی تعداد صرف بارہ ہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے جائے حادثہ کا خود معائنہ کیا ہے۔ لیکن جب ان سے معلوم کیا گیا کہ آیا زندہ بچ جانے والوں میں سے زخمیوں کے علاوہ کسی اور کے ساتھ ان کی ملاقات ہوئی تو ان کا جواب نفی میں تھا۔

واپڈا کے ذرائع کے مطابق جائے حادثہ سے متعلقہ گیارہ کے وی کے گرڈ سٹیشن کا سرکٹ بریکر سسٹم کام نہیں کر رہا ہوگا ورنہ سرکٹ شارٹ ہونے کے چند لمحوں میں ہی متاثرہ لائن میں بجلی کی فراہمی معطل ہو جانی چاہیے تھی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد