بنوں میں تصادم، 3 ہلاک، 3 زخمی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبائی دارالحکومت پشاور سمیت دیگر گیارہ اضلاع میں بلدیاتی انتخابات سے جڑے تشدد میں بنوں میں تین افراد ہلاک جبکہ درجنوں زخمی ہوئے ہیں۔ پولنگ ختم ہوچکی ہے تاہم کئی مقامات پر تصادم اور تلخ کلامی میں درجنوں افراد کے زخمی ہونے کی خبریں ضرور موصول ہوئی ہیں۔ ہلاکت کا واقعہ جنوبی شہر اور صوبائی وزیر اعلی اکرم خان درانی کے آبائی علاقے بنوں میں آج سہ پہر پیش آیا۔ یونین کونسل نظام دھرمہ خیل میں دو مخالف گروہوں کے درمیان مسلح جھڑپ میں تین افراد موقع پر ہلاک جبکہ تین زخمی ہوئے ہیں۔ زخمیوں کو مقامی ہستپال میں داخل کروا دیا گیا ہے جہاں ان کی حالت نازک بتائی جاتی ہے۔ جنوبی ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں پندرہ افراد یونین کونسل حسام اور چودوان میں مخالفین کی جھڑپ میں زخمی ہوئے ہیں۔ پشاور میں کئی مقامات پر جن میں لاہوری گیٹ اور سرکی دروازے کے علاقوں میں جھڑپیں اور نعرہ بازی ہوئی۔ مخالفین نے ایک دوسرے کے کیمپ اکھاڑ پھینکے۔ جہانگیرہ میں دو امیدواروں کے حامیوں کے درمیان ہوائی فائرنگ بھی ہوئی ہے تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔ تمام دن پولنگ سٹیشنوں کے باہر کافی گہما گہمی دیکھنے کو ملی۔ تمام پولنگ سٹیشنوں پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے۔ پولیس گاڑیوں میں گشت کرتی رہی جبکہ فرنٹیر کور ملیشیا اور فوج بھی کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے لئے تیار رہی۔ چند علاقوں میں جن میں یونین کونسل ہزار خوانی شامل ہے بعض امیدواروں کے بیلٹ پیپرز پر انتخابی نشانات نہ ہونے کی وجہ سے پولنگ روک دی گئی تھی اور ووٹنگ میں تاخیر ہوئی۔ کئی مقامات پر پولنگ سامان کی کمی بھی وجہِ تاخیر بنی۔ کئی ووٹروں نے ووٹ ڈالنے کے عمل کو ناخواندہ افراد کے لئے مشکل قرار دیا۔ کوہاٹ میں اقلیتی برادری نے بیلٹ پیپرز پر ان کے انتخابی نشانات نہ ہونے کی وجہ سے احتجاج بھی کیا۔ اسی قسم کی شکایات دیگر کئی علاقوں میں بھی ملی ہیں۔ امیدوار گرم موسم میں کئی مقامات پر ووٹروں کو اپنی گاڑیوں میں پولنگ سٹیشن لانے کے علاوہ ان کی شربت اور کھانے سے تواضع بھی کر رہے تھے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||