پاکستانی کروز میزائل: پہلا تجربہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان نے جمعرات کی صبح کو پہلی دفعہ کروز میزائل کا تجربہ کیا ہے۔ فوجی حکام کے مطابق یہ میزائل جسے حتف سات ’بابر‘ کا نام دیا گیا ہے ہر طرح کے جوہری اور روائتی وارہیڈز لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اس کی رینج پانچ سو کلومیٹر ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات شیخ رشید کے مطابق یہ تجربہ بلوچستان کے علاقے سومیانی کے مقام پر کیا گیا ہے۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے شیخ رشید نے کہا کہ میزائل تجربہ بہت کامیاب تھا اور یہ میزائل ہر طرح کا ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’آج صدر مشرف کی سالگرہ بھی ہے۔ اس لیے آپ کہہ سکتے ہیں کہ یہ پاکستانی سائنسدانوں کا صدر مشرف کے لیے ایک تحفہ ہے‘۔ فوج کے تعلقات عامہ کے ادارے آئی ایس پی آر کے مطابق بابر میزائل کا تجربہ نہایت کامیاب رہا۔ فوجی حکام کا دعوی ہے کہ بابر میزائل کی نشاندہی کسی بھی ریڈار سسٹم یا دفاعی سسٹم پر نہیں ہو سکتی۔ اس کے علاوہ حکام کا کہنا ہے کہ یہ میزائل جنگی کشتی، آبدوز اور ہوائی جہاز کے ذریعے پھینکا جا سکتا ہے۔
فوج کے ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان کا کہنا ہے کہ یہ میزائل مکمل طور پر پاکستان میں تیار کیا گیا ہے اور یہ پاکستان کے سرکردہ سائنسدانوں اور انجینئیروں کی کاوش ہے۔ صدر جنرل پرویز مشرف نے اس میزائل کے تجربے پر سائنسدانوں کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کے دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے بھارت اور امریکہ کے درمیان دفاعی معاہدے کی طرف بالواسطہ اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اپنے پڑوس میں ہونے والے جیو سٹریٹیجک حالات میں تبدیلی کے چیلنج سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔ صدر جنرل پرویز مشرف نے یہ بھی کہا ہے کہ بابر میزائل کا تجربہ پاکستان کی حفاظت کو مضبوط بنانے کے اقدامات میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ بھارت اور پاکستان نےگزشتہ ہفتے دونوں ممالک کے درمیان میزائل تجربات کی پیشگی اطلاع دینے کے معاہدے پر اتفاق کیا تھا تاہم اس میزائل کے تجربے کی پیشگی اطلاع بھارت کو نہیں دی گئی تھی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||