BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 17 July, 2005, 09:23 GMT 14:23 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’برطانیہ دوسروں پر الزام نہ لگائے‘
حملہ آور لندن کے لیے روانہ ہو رہے ہیں
’ان حملہ آوروں کو برطانیہ میں گزرے وقت نے خودکش حملہ آور بنایا‘
اقوام متحدہ میں پاکستان کے سفیر منیر اکرم نے کہا ہے کہ برطانیہ کو دوسرے ممالک پر لندن میں بم دھماکے کرنے والوں پر اثر انداز ہونے کا الزام لگانے سے گریز کرنا چاہیے۔

منیر اکرم نے کہا کہ برطانیہ کو لندن بم دھماکوں کی وجہ کو سمجھنے کی کوشش کے دوران اپنی داخلی صورتحال کا جائزہ لینا ہوگا۔

انہوں نے بی بی سی کے ایک ریڈیو پروگرام میں انٹرویو دیتے ہوئے اس بات سے انکار نہیں کیا کہ پاکستان کو شدت پسندی کا سامنا ہے جسے وہ نمٹنے کی کوشش کر رہا ہے۔

منیر اکرم کوفی عنان کے ساتھ
منیر اکرم کوفی عنان کے ساتھ
لیکن انہوں نے کہا کہ برطانیہ میں انتہاپسند اماموں کے بعد اب وہیں پیدا ہونے والے خودکش حملہ آور بھی ہیں اور یہ کہ یقیناً برطانیہ بھی دہشت گردی کا گڑھ بن چکا ہے۔

منیر اکرم نے اس بات سے انکار کیا کہ لندن میں حملے کرنے والے پاکستان میں خودکش حملوں کی طرف مائل ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ لوگ پاکستان گئے بھی تھے تو اتنے مختصر عرصے کے لیے کہ یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اس دوران وہ انتہا پسند بن گئے۔

انہوں نے کہا کہ ان حملہ آوروں کے نظریات کی تشکیل میں برطانیہ میں گزرے وقت کا زیادہ اثر ہوگا۔ انہوں نے برطانیہ پر زور دیا کہ وہ دوسرے ممالک پر الزام نہ لگائے اور دہشت گردی کی تہہ تک پہنچنے کے لیے اپنے معاشرے کا جائزہ لے خاص طور پر اس بات کا کہ یہاں کہ مسلمان پوری طری معاشرے کا حصہ کیوں نہیں بن سکے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد