ہائی کورٹ کا فیصلہ معطل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ نے جنوبی پنجاب کے گاؤں میر والا میں مبینہ طور پر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بننے والی مختار مائی کے ملزمان کے ناقابل ضمانت گرفتاری کے وارنٹ جاری کرتے ہوئے منگل کو لاہور ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو معطل کر دیا ہے جس میں اجتماعی زیادتی کے ملزمان کی رہائی کا حکم سنایا گیا تھا۔ سپریم کورٹ نے ان ملزمان کے علاوہ ان آٹھ افراد کے بھی وارنٹ گرفتاری جاری کیے ہیں جنھیں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے رہا کر دیا تھا۔ مختار مائی نے سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر اپنے ردِ عمل میں کہا کہ وہ بہت خوش ہیں اور امید کرتی ہیں کہ سپریم کورٹ سے انہیں انصاف ملے گا اور ان کے ملزمان کو سزا دی جائے گی۔ سپریم کورٹ کا فیصلہ سنتے ہی مختار مائی اپنی سہیلی نسیم غزلانی اور کورٹ میں موجود خواتین سے گلے ملیںG
سپریم کورٹ نے پنجاب کے انسپکٹر جنرل پولیس کو ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ مختار مائی کے ملزمان کی گرفتاری کے حکم پر عملدرآمد کروائیں اور ان کو عدالتی تحویل میں زیر حراست ملزمان تصور کیا جائے۔ لاہور ہائی کورٹ نے اس سال تین مارچ کو مختار مائی کے ساتھ اجتماعی زیادتی میں ملوث چھ میں سے پانچ افراد کی رہائی کا حکم سنایا تھا جن کو بعد میں ایم پی او کے تحت تین ماہ کے لئے نظر بند کر دیا گیا تھا۔ تاہم لاہور ہائی کورٹ کے نظرثانی بورڈ نے اس ماہ ان ملزمان کی رہائی کے احکامات جاری کر دیئے تھے مگر ابھی تک ان پانچ میں سے ایک فرد فیضان پچارا رہا ہوا تھا جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ حکام نے اس کو دوبارہ اپنی تحویل میں لے لیا ہے۔ باقی چار ملزمان فیض مستوئی، غلام فرید مستوئی، فیاض احمد اور اللہ دتہ مستوئی ابھی تک زیر حراست ہی ہیں۔ رہا ہونے والے آٹھ افراد میں محمد اسلم، اللہ دتہ، خلیل، نذر، غلام حسن، رسول بخش، قاسم اور حضور بخش شامل ہیں۔ ان افراد پر الزام ہے کہ انھوں نے سن دو ہزار دو میں مختار مائی کے ساتھ پنچایت کے حکم پر اجتماعی زیادتی کی اور بعد میں مختار مائی کو برہنہ سڑک پر پھرنے پر مجبور کیا۔ پنچایت کا حکم مختار مائی کے بھائی شکور کے مستوئی قبیلے کی ایک لڑکی سلمیٰ کے ساتھ مبینہ تعلقات کے الزامات کے بعد سنایا گیا تھا۔ سپریم کورٹ میں منگل کو اپنے دلائل جاری رکھتے ہوئے اٹارنی جنرل مخدوم علی خان نے کہا کہ اجتماعی زیادتی پورے معاشرے میں خوف و ہراس پھیلا دیتی ہے۔ انہوں نے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے پر شدید تنقید کی اور کہا کہ ہائی کورٹ کا فیصلے مفروضوں پر مبنی تھا۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ اجتماعی زیادتی کے واقعات میں خواتین ایک شدید صدمے کا شکار ہوتی ہیں اور کچھ دن تک وہ اس واقعہ کو بیان بھی نہیں کر سکتی۔ انہوں نے کہا کہ مختار مائی کے کیس میں بھی یہی ہوا اور اس صدمے سے نکلنے کے بعد مختار مائی نے پولیس میں رپورٹ درج کروائی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہائی کورٹ نے یہ بھی نہیں سوچا کہ ایک خاتون اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی کے بارے میں کیونکر غلط بیانی سے کام لے گی۔ اٹارنی جنرل کے مطابق ہائی کورٹ کا یہ فیصلہ بھی غلط تھا کہ اس زیادتی میں کسی زخم کے نشانات نہیں ملے۔ انہوں نے کہا کہ کیا کورٹ اسی صورت میں زیادتی کا نشانہ بننے والی کی فریاد سنے گا جب وہ یا تو زخمی ہو یا اس کی موت واقع ہو جائے۔ مختار مائی کے وکیل اعتزاز احسن نے اپنے دلائل میں کہا کہ اس کیس میں ملک بھر میں رائج پنچایت کے سسٹم پر نظر ثانی کی جائے کیونکہ اس مقدمے میں اجتماعی زیادتی کا ارتکاب کرنے والے اور پنچایت دونوں اس جرم میں برابر کے شریک ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ایسا پہلی دفعہ ہوا ہے کہ ایک غریب اور ان پڑھ عورت نے اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی کے خلاف جنگ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ سپریم کورٹ میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے اور عدالت بھی انسانی حقوق کی غیر سرکاری تنظیموں کے نمائندوں، سفارتخانوں کے اہلکاروں، وکلا اور صحافیوں سے بھری ہوئی تھی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||