صدام کے وکلاء اندھیرے میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدام حسین کے وکلاء نے کہا ہے کہ اب تک انہیں ان کے مؤکل کے خلاف مقدمات کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئی ہیں۔ عراقی حکومت نے کہا ہے کہ سابق صدر پر چند مہینوں میں انسانیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب کرنے پر مقدمات عدالتوں میں پیش کر دیے جائیں گے۔ تاہم صدام حسین کا دفاع کرنےوالے وکلاء نے کہا ہے کہ انہیں صدام حسین کے خلاف مقدمات سے متعلق اسی لاکھ دستاویزات میں سے ایک بھی فراہم نہیں کی گئی اور انہیں ان کے خلاف لگائے گئے الزامات کے بارے میں بھی نہیں بتایا گیا۔ عمان سے بی بی سی کی نامہ نگار نے صدام حسین کے وکلاء کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ انہیں اس بات کا قطعی یقین نہیں کہ صدام حسین کے خلاف مقدمہ طے شدہ وقت پر چلایا جانا ممکن ہے۔ وکلاء کی ٹیم کے ترجمان اسام غزاوی نے کہا ہے کہ گزشتہ ماہ برطانوی اخبار میں صدام حسین کی شائع ہونے والی تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کے بنیادی انسانی حقوق کو پامال کیا جا رہا ہے۔ غزاوی نے کہا کہ صدام حسین کے بحیثیت انسان کے جو حقوق بنتے ہیں ان کا بھی خیال نہیں رکھا جا رہا اور ایسے میں ان کے عراق کے سابق صدر کی حیثیت سے حقوق کی بات کرنا تو بالکل بے کار ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدام حسین سے جنگی قیدی اور عراق کے سابق صدر ہونے کے ناطے کوئی اچھا سلوک نہیں کیا جا رہا۔ گزشتہ ہفتے عراقی حکومت نے کہا کہ صدام حسین کو کم از کم بارہ الزامات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ایک حکومتی ترجمان نے کہا تھا کہ صدام حسین کے خلاف جو بارہ الزامات عائد کئے جارہے ہیں ان کے مکمل دستاویزی ثبوت موجود ہیں اور ان کی بنا پر صدام حسین کو زیادہ سے زیادہ سزا دلانا یقینی بنایا جا سکتا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||