BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 09 June, 2005, 15:02 GMT 20:02 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مقامی حکومتیں: کامیابی کا دعویٰ

بھارتی وفد : فائل فوٹو
بھارتی وفد نے بھی دورۂ پاکستان کے دوران مقامی حکومتوں کے نظام کی تعریف کی
پاکستان میں صدر پرویز مشرف کے قائم کردہ قومی تعمیر نو بیورو نے دعوی کیا ہے کہ ان کے متعارف کرائے گئے مقامی حکومتوں کا نیا نظام کامیاب ہوچکا ہے اور ان اداروں پر عوام کے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے۔

یہ دعوی قومی تعمیر نو بیورو کے ممبر ممد نعیم الحق نے پشاور میں صحافیوں کی ایک تربیتی ورکشاپ میں خطاب کے دوران کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب دو ہزار ایک میں یہ نیا نظام متعارف کرایا جا رہا تھا تو کچھ عناصر نے خدشات کی وجہ سے شدید مخالفت کی تھی مگر وہ سب محض خدشات ہی ثابت ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ نظام ساڑھے تین برسوں سے کامیابی سے کام کر رہا ہے۔

اپنے اس دعوے کے سلسلے میں انہوں نے سرکاری تنظیم بیور آف سٹیٹسٹکس کے اعدادشمار پیش کیے۔ ان اعدادوشمار کے مطابق سوشل سروس ڈیلیوری میں بہتری آئی ہے اور لوگوں کو اب تعلیم، پانی اور صحت جیسی دیگر سہولتوں تک سن دو ہزار ایک کے مقابلے میں بہتر رسائی حاصل ہے۔

اس کامیابی کی ایک اور دلیل انہوں نے مقامی بلدیاتی اداروں کے خود حاصل کردہ آمدن میں اضافے کو بھی قرار دیا۔

مقامی حکومتوں کے نئے نظام کے تحت نئے انتخابات اس سال جولائی یا اگست میں متوقع ہیں۔ لیکن اس سے قبل محسوس ہوتا ہے کہ حکومت نے اس نظام کو ایک کامیابی کے طور پر پیش کرنا شروع کر دیا ہے۔

مبصرین کے خیال میں اعدادوشمار کے اس کھیل میں اگر ملک میں بڑھتی ہوئی آبادی کا تقریبا اڑھائی تین فیصد اضافہ ذہن میں رکھا جائے تو نئے نظام سے کوئی اتنی بڑی تبدیلی نہیں آئی کہ جیسے ایک بڑی کامیابی کے طور پر پیش کیا جا سکے۔

خود اپنے خطاب میں نعیم الحق نے اعتراف کیا کہ مقامی ضلعی حکومتوں کے نظام میں ابھی بھی کئی ایسے اہم پہلوں ہیں جن پر کوئی توجہ نہیں دی گئی ہے۔ ان میں ضلع محتسب کا ادارہ ابھی پورے ملک میں کہیں بھی قائم نہیں کیا جا سکا ہے۔ مصالحت، مشاورت، اخلاقیات اور نگران کمیٹیاں بھی شامل ہیں جو بننی چاہیے تھیں لیکن کہیں بھی نہ بن سکیں۔

نعیم الحق کا کہنا تھا کہ اصل بات سروس ڈیلیوری کے ادارے ہیں جو کام کر رہے ہیں۔ ان کا دعوی تھا کہ پاکستان میں انداز حکمرانی بھی اس نظام کے آنے سے یکسر تبدیل ہوگیا ہے۔

بلدیاتی نظام کے بارے میں ذرائع ابلاغ میں ایک صحت مند بحث اور مباحثہ کرانے کے لیے انہوں نے صحافیوں کو ان کے لیے مخصوص ایک ویب سائٹ کے بارے میں بھی بتایا۔ میڈیا اینڈ گورننس نامی اس ویب سائٹ کا مقصد صحافیوں کو اس نظام کے بارے میں لکھنے کی ترغیب دینا ہے۔

یہ ویب سائٹ بھی بظاہر اس کوشش کا حصہ ہے جس کے مطابق بلدیاتی نظام کے بارے میں اس تاثر کی نفی کرنا ہے کہ اب تک یہ ادارے کچھ خاص اہداف حاصل نہیں کر سکے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد