بلوچستان: ایف سی، مظاہرین میں جھڑپ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ بلوچستان کے شہر تربت کے قریب مند کے علاقے میں مقامی مظاہرین اور ایف سی کے اہلکاروں کے مابین جھڑپ سے تین افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع ملی ہے۔ ایف سی کے حکام نے کہا ہے کے نامعلوم افراد نے ان کی گشتی ٹیم پر حملہ کیا ہے۔ کوئٹہ سے کوئی سات سو کلومیٹر دور مند کے علاقے میں مقامی لوگ فرنٹیئر کور کی نئی چوکیوں کے قیام کے خلاف مظاہرہ کر رہے تھے جس پر ایف سی کے اہلکاروں اور مقامی مظاہرین کے مابین جھڑپ ہوئی ہے۔ اس جھڑپ میں دونوں جانب سے فائرنگ کی اطلاع موصول ہوئی ہے جس سے تین افراد زخمی ہوئے ہیں۔ مقامی صحافیوں نے بتایا ہے کہ مظاہرین کو ایف سی کے اہلکاروں نے گھیرے میں لے لیا ہے جس کے بعد مقامی انتظامیہ اور ایف سی کے حکام نے مذاکرات شروع کیے ہیں۔ ایف سی کے ترجمان نے کہا ہے ان کی گشتی ٹیم پر نا معلوم افراد نے فائرنگ کی ہے جس کے بعد ایف سی کے اہلکاروں نے جس جانب سے فائر ہوا تھا اسی جانب فائر کیا گیا ہے۔ تربت کے ضلعی رابطہ افسر اورنگزیب شاہ نے کہا ہے کہ ایف سی کے حکام سے کہا گیا ہے کہ بے گناہ افراد کو تنگ نہ کیا جائے۔ یاد رہے کہ اٹھائیس مئی کو نا معلوم افراد نے مند کے علاقے میں ایف سی کی دو چوکیوں اور ایک گاڑی پر حملہ کیا تھا۔ اس حملے میں کسی قسم کے کوئی جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی تھی۔ بلوچ لبریشن آرمی اور بلوچ لبریشن فرنٹ کے نمائندوں نے ٹیلیفون پر ان حملوں کی زمہ داری قبول کی تھی۔ اس واقعہ کے بعد ایف سی کے اہلکاروں نے علاقے میں مزید چوکیاں قائم کر دی تھیں اور حفاظی انتظامات سخت کر دیے تھے۔ بلوچستان نیشنل موومنٹ کے قائد غلام محمد بلوچ نے کہا ہے کہ ایف سی نے مقامی افراد کے نقل و حرکت کو محدود کر دیا تھا اور کئی افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ ایف سی کی رویے کے خلاف مقامی لوگ احتجاج کر رہے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||