کوئٹہ: ایف سی سے جھگڑا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کوئٹہ میں فرنٹیئر کانسٹیبلری اور مقامی لوگوں کے ایک گروہ کے مابین فائرنگ سے تین افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ پولیس نے ایف سی کے دو اہلکاروں کو گرفتار اور دو افراد کو شامل تفتیش کر لیا ہے۔ کوئٹہ شہر کے پولیس افسر سلمان سید نے بتایا ہے کہ رات گئے کچھ نوجوانوں نے سریاب کے علاقے میں فرنٹیئر کانسٹیبلری کے ٹینٹ کے سامنے گاڑی پارک کردی جس پر ایف سے کے جوانوں نے انھیں منع کیا اور اس پر بات بڑھ گئی بعد میں نوجوان گاڑی لے گئے اور مزید ساتھیوں کو ساتھ لے آئے جس پر دو طرفہ فائرنگ شروع ہو گئی۔ اس جھڑپ میں مقامی نوجوانوں کے تین ساتھی ہلاک ہو گئے ہیں۔ ادھر مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ اپنے علاقے میں گھر کے باہر کھڑے تھے اور ایف سی کے لوگوں نے کہا کہ یہاں سے چلے جاؤ جس جھگڑا ہو گیا۔ پولیس حکام اس وقت علاقے میں موجود ہیں تاکہ کہ قسم کا کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آئے۔ پولیس افسر نے بتایا ہے کہ مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور ایف سی کے دو جوانوں کو گرفتاراور دو کو شامل تفتیش کر لیا گیا ہے۔ یاد رہے کل صبح تین موٹر سائیکلوں پر سوار آٹھ افراد نے بلوچستان کے جھل مگسی کے علاقے میں مسافر کوچ کو اغوا کر لیا تھا ۔مسافروں کی مزاحمت پر مسلح افراد نے ان پر فائرنگ کر دی جس سے چار افراد ہلاک اور پانچ زخمی ہو گئے تھے۔ جھل مگسی سے آمدہ اطلاعات کے مطابق مسلح افرادایک موٹر سائکل اور ایک ٹریکٹر بھی اسی علاقے سے لوگوں سے چھین کر فرار ہو گئے تھے۔ بعد میں نصیر آباد پولیس نے ایک کارروائی میں ایک مسلح شحص کو ہلاک اور دو کو گرفتار کر لیا تھا جبکہ ایک موٹر سائکل دو ٹریکٹر اور چار کلاشنکوفیں برآمد کر لی تھیں۔ گزشتہ کچھ عرصہ سے صوبے کے مختلف شہروں میں امن و امان کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہو گئی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||