لاہور میراتھن کا پُرامن اختتام | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انسانی حقوق کے کمیشن کی چیئر پرسن عاصمہ جہانگیر کی قیادت میں علامتی میراتھون لاہور میں خدشے کے برخلاف بغیر کسی ناخوشگوار واقعہ کے اختتام پذیر ہو گئی ہے۔ میراتھون لبرٹی مارکیٹ سے شروع ہوئی لیکن شرکاء کلمہ چوک جانے کے بجائے قذافی سٹیڈیم کے بیرونی احاطے میں داخل ہو گئے۔ پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرین سے تعلق رکھنے والے ارکان اسمبلی بھی اس دوڑ میں شامل تھے۔ شرکاء ملا ازم اور حکومت کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے احاطے کے فیروز پور روڈ والے گیٹ تک چلے گئے۔ یہاں پہنچ کر عاصمہ جہانگیر نے پولیس کی گاڑی پر چڑھ کر اس دوڑ کو آزاد خیال شہریوں کی فتح قرار دیا اور شرکاء کو پُرامن طور پر منتشر ہو جانے کو کہا۔ مذہبی جماعتوں کے رہنما اور کارکن قذافی سٹیڈیم کے دونوں دروازوں کے باہر لاٹھیاں لیے کھڑے رہے۔ تاہم کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔ اس سے پہلے لاہور کی ضلعی حکومت اور پولیس نے میراتھن کی اجازت دینے سے انکار کردیا تھا۔ لبرٹی چوک پر شام پانچ بجے کے قریب تین سو مرد اور عورتیں جمع ہوئے تھے جن کی قیادت انسانی حقوق کمیشن کی عاصمہ جہانگیر کررہی تھیں جبکہ لبرٹی سے کلمہ چوک تک جگہ جگہ پولیس کے ناکے لگے ہوئے تھے۔ شرکا میں نصف تعداد عورتوں کی ہے۔ شرکاء وردی ملا کی سرکار نامنظور اور شہری آزادیاں لے کر رہیں گے کے نعرے لگارہے تھے۔ میراتھون پر امن ہوئی اور پولیس کی بھاری نفری اس کے آگے پیچھے چلتی رہی۔ ملکی اور غیرملکی میڈیا کی بہت بڑی تعداد اس کی کوریج کے لیے وہاں جمع تھی۔ ایک انگریزی اخبار کے ایڈیٹر نجم سیٹھی پولیس سے میراتھن کی اجازت کے لیتے بات چیت میں مصرورف رہے اور ان کی کوششوں کے بعد پولیس نے میراتھن کے شرکاء کو راستہ بدل کر قذافی اسٹیڈیم سے گھوم کر کلمہ چوک جانے کی اجازت دے دی۔ عاصمہ جہانگیر کی اعلان کردہ علامتی میراتھون دوڑ کے سلسلے میں پولیس کی بھاری نفری گلبرگ لاہور میں تعینات کر دی گئی تھی۔ عاصمہ جہانگیر نے اعلان کیا تھا کہ سنیچر کو ہر صورت میراتھون دوڑ منعقد ہو گی جبکہ ضلعی انتظامیہ اور مذہبی جماعتوں کے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ وہ یہ میراتھون نہیں ہونے دیں گے۔ انسانی حقوق کمیشن اور جوائنٹ ایکشن کمیٹی فار پیپلز رائٹس نے گزشتہ ہفتے بھی ایک میراتھون دوڑ کی کوشش کی تھی جس میں مردوں کے ساتھ عورتوں نے بھی دوڑنے کی کوشش کی تھی لیکن پولیس نے اس دوڑ کے شرکاء کو اور اسے روکنے کی کوشش کرنے والی تنظیم شبابِ ملی کے کارکنوں کوگرفتار کرنے کے بعد رہا کر دیا تھا اور میراتھون دوڑ نہیں ہونے دی تھی۔ جس کے بعد انسانی حقوق کے کمیشن کی سربراہ نے دوبارہ میراتھون کا اعلان کر دیا تھا۔ جمعہ کے روز لاہور کے ضلعی ناظم میاں عامر محمود نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ’یہ میراتھون کوئی باقاعدہ دوڑ یا سپورٹس نہیں ہے بلکہ اس کے سیاسی مقاصد ہیں اور اس کے لیے انہیں لاہور کی سڑک پر دوڑنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔‘ انہوں نے کہا کہ ’اگر وہ کوئی احتجاج کرنا چاہتی ہیں تو لاہور کی انتظامیہ نے اس کام کے لیے مینار پاکستان کے میدان کو ہائیڈ پارک کی طرح قرار دے رکھا ہے وہ وہاں جا کر احتجاج کر سکتی ہیں۔‘
انسانی حقوق کے کمیشن کی چیئر پرسن عاصمہ جہانگیر نے جمعہ کے روز ہونے والی ایک تقریب کےدوران اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ درست ہے کہ ان کی دوڑ کے سیاسی اور سماجی مقاصد ہیں لیکن ان کی طرح اس ملک کی تمام عورتوں کا حق ہے کہ وہ تمام سماجی سرگرمیوں میں برابری کی بنیاد پر حصہ لے سکیں۔‘ انہوں نے کہا کہ’سنیچر کی شام وہ لاہور کی مین بلیوارڈ گلبرگ لبرٹی چوک سے کلمہ چوک تک میراتھون دوڑ میں حصہ لیں گی۔‘ جماعت اسلامی کی نوجوانوں کی تنظیم شبابِ ملی نے اعلان کیا ہے کہ’ وہ اس میراتھون کو روکنے کے لیے پہنچیں گے۔‘ شبابِ ملی لاہور کے جنرل سیکریٹری موسیٰ مجاہد نے کہا ہے کہ ’مخلوط میراتھون نہیں ہونے دی جائے گی۔‘ ان کے مطابق عورتوں کا مردوں کے ساتھ دوڑنا اسلام کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’پولیس نے انہیں وہاں پہنچنے سے منع کیا ہے اور ہو سکتا ہے کہ پہلے ان کا پولیس سے تصادم ہوجائے لیکن شبابِ ملی کے کارکن اور عوام وہاں ہر صورت پہنچیں گے اور یہ میراتھون نہیں ہونے دیں گے۔‘ تاہم موسیٰ مجاہد کا کہنا تھا کہ ’عورتوں پر ہاتھ اٹھایا جائے گا نہ ان کے کپڑے پھاڑے جائیں گے بلکہ کارکن انسانی زنجیر بنا کر کھڑے ہو جائیں گےاور کسی کو اس سے آگے نہیں جانے دیں گے۔‘ پاکستان کی چھ دینی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل نے بھی اعلان کر رکھا ہے کہ ملک میں ایسی کوئی میراتھون نہیں ہونےدی جائے گی جس میں عورتیں مردوں کے ساتھ دوڑیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||