مخلوط احتجاجی میراتھن کا اعلان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انسانی حقوق کمیشن کی سربراہ عاصمہ جہانگیر نے مبینہ ریاستی تشدد کے خلاف احتجاج کے طور پر اکیس مئی کو ایک بار پھر لاہور میں مردوں اور عورتوں کی مشترکہ میراتھن دوڑ کرانے کا اعلان کیا اور انسانی حقوق کی تنـظیموں اور عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اس روز ملک بھر کے مخلتف شہروں میں میراتھن دوڑ منعقد کریں۔ انسانی حقوق کمیشن اور جوائنٹ ایکشن کمیٹی فار پیپلز رائٹس نے سنیچر کو لاہور میں ایک میراتھن دوڑ کرانے کی کوشش کی تھی لیکن پولیس اور سادہ پوش اہلکاروں نے عورتوں اور مردوں کو گرفتار کر کے تھانے لے جانے کے بعد چھوڑ دیا تھا اور میراتھن نہیں ہونے دی تھی۔ پکڑ دھکڑ کےدوران شرکاءکو تشدد کانشانہ بھی بنایا گیا تھااور عاصمہ جہانگیر سمیت متعدد خواتین کے کپڑے پھٹ گئے تھے۔ عاصمہ جہانگیر نے پیر کو لاہور پریس کلب میں ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ’ وہ اس ریاستی تشدد کے خلاف احتجاج کے طور پر یہ میراتھن دوڑ کرارہی ہیں اور اس ریس میں مردوں کے ساتھ ساتھ عورتیں بھی دوڑیں گی۔‘ انہوں نے کہا کہ ’وہ ایک آزاد ملک کی شہری ہیں یہ ملک ان کا بھی ہے اور وہ جب چاہیں گی بیٹھیں گی اور جب چاہیں گی دوڑیں گی۔‘ انسانی حقوق کمیشن کی چئر پرسن نے کہا کہ’ وہ دفعہ ایک سو چوالیس کو نہیں مانتیں۔‘ لاہور میں دفعہ ایک سو چوالیس نافذ ہے جس کے تحت شہر میں پانچ یا پانچ سے زائد افراد کا ایک جگہ اکٹھے نہیں ہو سکتے۔ عاصمہ جہانگیر نے اسے ایک کالا قانون قرار دیا اور کہا کہ ’اس کی وجہ سے انسانی حقوق غضب ہورہے ہیں۔‘ انہوں نے کہا کہ’اگر شہر میں دفعہ ایک سو چوالیس نافذبھی تھی تو تب بھی پولیس کو عورتوں پر تشدد اور ان کے کپڑے پھاڑنے کا اختیار ہرگز نہیں تھا پولیس کو ان سے قانون کے مطابق نمٹنا چاہیے تھا۔‘ انہوں نے کہا کہ ’سادہ پوش اہلکار وفاقی خفیہ ایجنسی انٹیلجنس بیورو سے تعلق رکھتے تھے اور انہیں مکمل تربیت ہے کہ اپنے حق کے لیے مظاہرہ کرنے والے شہریوں کو کس طرح تشدد کانشانہ بنانا اور ان سے شرمناک رویہ روا رکھنا ہے۔‘ واضح رہے کہ پاکستان میں چھ دینی جماعتوں کے اتحادمتحدہ مجلس عمل نے اعلان کر رکھا ہے کہ وہ ملک ہونے والی کسی بھی ایسی میراتھن کو، جس میں عورتیں اور مرد ساتھ ساتھ دوڑیں طاقت سے روکیں گے وہ مخلوط میراتھن کو اسلام کے خلاف قرار دیتے ہیں۔ چودہ مئی کو علامتی میراتھن کے شرکاء کی گرفتاری کے بعد جماعت اسلامی کی ذیلی تنظیم شباب ملی کے کارکن بھی وہاں پہنچ گئے تھے اور انہوں نے فحاشی کے خلاف نعرے بازی کی تھی۔پولیس نے انہیں بھی گرفتار کر لیا تھا۔ پاکستان کی نامور وکیل عاصمہ جہانگیر نے سوال اٹھایا ہےکہ شباب ملی کے اراکین وہاں کیسے پہنچ گئے؟ انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر اکیس اپریل کو شباب ملی کے اراکین نے میراتھن کے شرکاء کو روکنے کی کوشش کی اور حملہ کیا تو وہ یہ سمجھنے میں حق بجانب ہونگی کہ یہ کام پولیس اور سرکاری خفیہ ایجنیسوں کی ایما پر کیا جارہا ہے۔ ادھر جماعت اسلامی لاہور کے جنرل سیکرٹری امیرالعظیم نے اپنے ایک بیان میں کہا ہےکہ ’عاصمہ جہانگیر مخلوط میراتھن سے باز رہیں ورنہ ہو سکتا ہے کہ ان کی میراتھن کے چند شرکاء کو روکنے کے لیے ہزاروں کی تعداد میں میراتھن مخالف وہاں پہنچ جائیں اور گندے انڈوں اورٹماٹروں کاغلط استعمال ہوجائے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’میراتھن پاکستانی اور اسلامی معاشرے سے مطابقت نہیں رکھتی اس لیے اس کے یہاں انعقاد کو کوئی جواز نہیں ہے۔‘ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||