میراتھن: افریقی ایتھلیٹ کامیاب | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
’ دوڑ میرے لاہور‘ کے نعرے کے ساتھ ہونے والی پاکستان کی پہلی میراتھن میں پہلی تینوں پوزیشنیں افریقہ سے تعلق رکھنے والے اتھلیٹ لے گئے لیکن ہزاروں لاہور کے شہری اس میں دوڑے ضرور تھے اور ان کا جوش و خروش دیدنی رہا۔ اتوار کی صبح دس بجے قذافی سٹڈیم میں اس بین الاقوامی میرا تھن کی رنگا رنگ افتتاحی تقریب ہوئی، ڈھول کی تھاپ پر رقص ہوئے اور ہزاروں رنگین غبارے فضا میں چھوڑے گئے۔ ہزاروں شہری دوڑنے کے لیے بے تاب تھے۔ ان کی بے چینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ درجنوں نوجوانوں اور بچوں نے دوڑ کا باضابطہ اعلان ہونے سے پہلے ہی چھ کلومیٹر میرا تھن کا ایک چکر بھی لگا لیا تھا۔ منتظمین کے مطابق چھ، دس اور بیالیس کلومیٹر کی تین الگ الگ میراتھن کے لیے پندرہ ہزار کے قریب شہریوں نے رجسڑیشن کرائی تھی لیکن اس معاملے میں بھی لاہور والوں نے اپنی سی کی یعنی سنیچر کی رات دو بجے تک رجسڑیشن جاری رہی اور اگلے روز یہ کام پھر شروع ہوگیا اور میرا تھن سے ایک گھنٹے پہلے تک رجسڑیشن ہوتی رہی ہے۔ پاکستانیوں کے علاوہ اس میں سولہ ممالک کے ستر کے قریب اتھیلٹس بھی موجود تھے۔
سردیوں کی نرم دھوپ میں ہزاروں شہری دوڑنے لیے لاہور کی سڑکوں پر نکلے تو ان کی حفاظت کے لیے پانچ ہزار پولیس اہلکار تو تعینات تھے ہی، دو ہیلی کاپٹر بھی نیچی پرواز کرتے رہے، شہر کی مختلف سڑکوں پر دوڑ میں حصہ لینے والوں کی حوصلہ افزائی کے لیے سکولوں کے بچے موجود تھے جبکہ عام شہری بھی تالیاں بجاتے نظر آئے۔ میرا تھن میں پچاس سالہ مسز اصغر نے اپنے بیٹے کے ہمراہ شرکت کی وہ روزانہ ماڈل ٹاؤن میں دس کلومیٹر کی واک کرتی ہیں اس لیے ان کے لیے یہ کوئی مشکل مرحلہ نہیں تھا۔ ضلعی ناظم میاں عامر محمود کی شرٹ کا نمبر پانچ سو تھا۔ انہوں نے چھ کلومیٹر کی میراتھن میں حصہ لیا تھا۔ان کا خیال تھا کہ لاہور کے شہریوں نے یہ تاثر چھوڑا ہے کہ وہ سپورٹس سے محبت کرنے والے لوگ ہیں۔ چیف منسٹر ٹاسک فورس کے رکن یوسف صلاح الدین نے کہا کہ اس ریس میں بچے ہر عمر کے خواتین اور مرد موجود ہیں جو ہر طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس ریس سے لاہور کے کلچر کو اجاگر کیا جاسکا ہے اور سیاح لاہور کی جانب متوجہ ہوئے ہیں۔ کراچی کی ایک خاتون مسز سلمان نے کہا کہ وہ لاہور کی سردی سے محظوظ ہوئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں یقین ہے کہ دس کلو میٹر کی دوڑ کے بعد ان کے جسم میں درد نہیں ہوگا لیکن اگر ہوا بھی تو پھر (درد اور بخار کی ایک دوا ) ’بروفن‘ زندہ باد ۔ اتھلیٹ لاہور کی مختلف سڑکوں پر بھاگے اور واپس قذافی سٹڈیم پہنچے، یہ پاکستان کی پہلی میرا تھن تھی اور لاہور والوں کو اس کا کچھ تجربہ بھی نہیں تھا، اس میں دلچسپ غلطیاں ہوتی رہیں، کئی شرکاء اپنے راستہ بھول کر ادھر ادھر بھٹکتے رہے۔ کئی نے جوش و جذبے سے دوڑ تو شروع کی لیکن کچھ دور جاکر ہی دل ہار بیٹھے لیکن ا یک بہت بڑی تعداد ایسی تھی جس نےجیسے تیسے سہی لیکن دوڑ ضرور مکمل کی۔
اہم ترین اور طویل ترین دوڑ بیالیس کلومیٹر کی تھی جس کے شرکاء قذافی سٹڈیم سے لیکر چوبرجی مینار پاکستان مال روڈ تک کا چکر لگا کر آئے تھے، اس میں پہلی پوزیشن جنوبی افریقہ کے اٹھائیس سالہ تسیکومیپولوکنگ نے حاصل کی۔ انہوں نے یہ دوڑ دو گھنٹے سولہ منٹ اور ستاؤن سیکنڈ میں پوری کی۔ دوسری پوزیشن کینیا اور تیسری پوزیشن تنزانیہ کے کھلاڑیوں نے حاصل کی۔ پاکستانی شہری محمد اسلم اس دوڑ میں سولہویں نمبر پر آئے، انہوں نے یہ فاصلہ دو گھنٹے تینتالیس منٹ اور انسٹھ سیکنڈ میں پورا کیا۔ان کا تعلق پاکستان آرمی سے ہے۔ وزیر اعلی پنجاب نے اختتامی تقریب میں کھلاڑیوں میں انعامات تقسیم کیے اس موقع پر انہوں نے اعلان کیا کہ اگلی میراتھن انتیس جنوری دوہزار چھ میں لاہور میں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اس شاندار میرا تھن کے انعقاد پر اہل لاہور مبارکباد کے مستحق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہیں اس بات کی خوشی ہے کہ انہوں نے ہر طرح کے اور ہر طبقے کے لوگوں کو دوڑتے دیکھا اور ان میں پردہ دار برقع پوش خواتین بھی تھیں۔ اس میرا تھن میں لندن سے آئے بھارتی نژاد ترانوے فوجا سنگھ بھی لوگوں کی توجہ کا مرکز بنے رہے انہوں نے پیرانہ سالی کے باوجود دس کلومیٹر کا فاصلہ ایک گھنٹے اور چار منٹ میں پورا کیا۔ انہیں وزیر اعلی پنجاب نے میڈل کے علاوہ پانچ ہزار امریکی ڈالر کا خصوصی انعام دینے کا اعلان کیا۔ فوجا سنگھ نے مائیک پر آکر ان کا شکریہ ادا کیا اور پنجابی میں کہا کہ ’اے رقم میرے ولوں غریباں اچ ونڈ دیو‘ (یہ رقم میری طرف سے غریبوں میں بانٹ دی جاۓ)۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||