بلوچستان میں پھر دھماکے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ اور ساحلی شہر گوادر میں چار دھماکے ہوئے ہیں لیکن ان میں کسی قسم کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔ ان میں سے تین دھماکے گوادر میں ہیں۔ کوئٹہ میں ایک زور دار دھماکہ جائنٹ روڈ کے قریب ارباب برکت علی روڈ پر ہوا اور یہاں بھی کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔ دھماکے کی آواز اتنی زور دار تھی کہ دور دور تک سنی گئی ہے۔ گوادر سے پولیس حکام نے بتایا ہے کہ پہلے دو دھماکے پولیس تھانے اور سپلائی گودام کے قریب ہوئے ہیں۔ سب انسپکٹر جمعہ خان کے مطابق یہ دیسی ساخت کے چھوٹے بم تھے جن سے کسی قسم کا کوئی نقصان نہیں ہوا ہے۔ تیسرا دھماکہ ایک سرکاری افسر کی رہائش گاہ کے پاس ہوا ہے۔ پولیس حکام نے علاقے کی ناکہ بندی کر دی ہے اور تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ گوادر میں حکومت نے سخت حفاظتی اقدامات کیے ہیں اور بڑی تعداد میں فرنٹیئر کور کو تعینات کر رکھا ہے ۔ اس مرتبہ یہ دھماکے کوئی تین ماہ کے بعد ہوئے ہیں اس سے پہلے گوادر میں دھماکے معمول بن چکے تھے۔ یاد رہے گزشتہ سال سڑک کے کنارے دھماکے میں تین چینی انجینیئر ہلاک ہور گیارہ زخمی ہو گئے تھے۔ گوادر میں چینی کمپنی گہرے پانی کی بندر گاہ تعمیر کر رہی ہے۔ اس سال اپریل کے شروع میں چینی پریمیئر نے گوادر بندرگاہ کے پہلے فیز کا افتتاح کرنا تھا لیکن بعض وجوہات کی بنا پر وہ گوادر نہ جاسکے۔ اس کی ایک وجہ گوادر میں بڑے جہازوں کے نہ اترنے کی سہولت ہے اور چینی وزیراعظم نے چھوٹے جہاز کے ذریعے جا نے سے انکار کر دیا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||