BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 14 April, 2005, 18:37 GMT 23:37 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بس سروس کے اسیروں کی رہائی

کشمیر
مظاہرین میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے
پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں جمعرات کو ان دو درجن سے ز ائد سابق کشمیری عسکریت پسندوں کو رہا کیا گیا جن کو مظفرآباد اور سرینگر کے درمیان بس سروس کے آغاز کے موقع پر حراست میں لیا گیا تھا۔ یہ رہائی ان افراد کے اہل خانہ اور حامیوں کی طرف سے مشترکہ احتجاجی دھرنے کے بعد عمل میں لائی گئی۔

رہا ہونے والے بیشتر افراد کا تعلق سابق عسکریت پسندوں کی تنظیم یونائیٹڈ حقیقی موومنٹ سے ہے۔ یہ تنظیم بھارت اور پاکستان کے درمیان امن کے عمل کو زبردست حمایت کرتی ہے ۔

جمعرات کو درجنوں افراد نے مظفرآباد میں قائم سینڑل پریس کلب کے احاطے میں دھرنا دیا۔ اس دھرنے میں یونائیٹڈ حقیقی مومنٹ کے زیر حراست دو درجن سے زائد افراد کے اہل خانہ عزیز’ اقارب اور ان کے حامیوں نے شرکت کی۔

اس موقع پر مظاہرین زیر حراست افراد کی رہائی کے لئے نعرہ بازی کرتے رہے ۔کچھ بچوں نے کتبے اٹھا رکھے تھے جن پر مختلف نعرے درج تھے اور ایک بچے کے کتبے پر یہ درج تھا کہ’ میرے والد کو رہا کرو‘ جبکہ دوسرے پر انگریزی میں یہ درج تھا کہ’ ہم واپس جانا چاہتے ہیں‘۔

دھرنے کے دوران ایک مرحلے پر صورت حال بگڑتے بگڑتے رہ گئی جب موقع پرموجود ایک مجسٹریٹ نے مظاہرین کے بارے میں اس وقت انتہائی نازیبا زبان استعمال کی جب وہ انتظامیہ کے خلاف نعرہ بازی کر رہے تھے لیکن کچھ لوگوں کی مداخلت پر صورت حال خراب ہونے سے بچ گئی۔

News image
مظاہرین اسیر کیے جانے والوں کے خاندانوں کے لوگ شامل تطے

یہ دھرنا صبح دس بجے سے سہ پہر چار بجے تک کوئی چھ گھنٹے جاری رہا اور اس دوران درجنوں پولیس اہلکار موقع پر موجود رہے۔ یہ احتجاج سہ پہر کو پرامن طور پر اس وقت ختم کیا گیا جب حکام نے احتجاجیوں کو یہ یعقین دہانی کرائی کہ زیرحراست افراد کو رہا کردیا جائے گا۔

دھرنا ختم ہونے کے کچھ گھنٹے بعد سابق عسکریت پسندوں کو رہا کردیا گیا۔رہا ہونے والوں میں بیشتر افراد محنت مزدوری کرکے بچوں کا پیٹ پالتے ہیں۔
انتظامیہ کے ایک افسر نے بی بی سی کو بتایا کہ ان افراد سے یہ تحریری ضمانت حاصل کی گئی ہے کہ وہ مستقبل میں امن عامہ کا مسئلہ پیدا نہیں کریں گے۔ جن لوگوں کو حراست میں لیا گیا تھا ان افراد میں بیشتر کا تعلق یونائیٹڈ حقیقی مومنٹ سے ہے پہلے اس تنظیم کا نام حقیقی فورس تھا۔

سابق عسکریت پسندوں کی تنظیم یونائیٹڈ حقیقی مومنٹ کا موقف یہ ہے کہ وہ 7 اپریل کو بھارت کے زیر انتظام کشمیر سے پہلی بس کے ذریعے آنے والے مہمانوں کا استقبال کرنا چاہتے تھے کہ اس سے پہلے ہی پولیس نے ان کے ساتھیوں کو بغیر کسی جواز کے حراست میں لیا۔ لیکن ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ان کو یہ اطلاعات تھیں وہ کوئی احتجاجی مظاہرہ کرنا چاہتے تھا جس کا مقصد ان کے اپنے بعض معاملات کی طرف توجہ حاصل کرنا تھا۔

حکام کا کہنا ہے کہ یہی وجہ تھی کہ ان لوگوں کو نقص امن کے خدشہ کہ پیش نظر حراست میں لیا گیا۔ یونائیٹڈ حقیقی فورس میں وہ لوگ شامل ہیں جو بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں عسکری کاروائیوں کے دوران مختلف اوقات میں لائن آف کنڑول عبور کرکے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں آئے اور اور پھر اپنے گھروں کو واپس نہ جاسکے۔

اس تنظیم میں شامل ان افراد کا ماضی میں مختلف کشمیری عسکری تنظیموں سے تعلق رہ چکا ہے لیکن بعد میں انھوں نے مختلف وجوہات کی بنیاد پر نہ صرف ان تنظیموں سے علحٰیدگی اختیار کی بلکہ عسکریت کو بھی ترک کیا اور اپنی ایک الگ تنظیم بنائی ۔ اس تنظیم کا دعویٰ ہے کہ اس تنظیم میں شامل افراد کی تعداد لگ بھگ چار سو ہے اور ان میں بہت سارے اپنے بیوی بچوں کے ساتھ رہتے ہیں۔

اس تنظیم میں شامل بیشتر لوگ روزی کمانے کے لئے محنت مزدوری کرتے ہیں۔ سابق عسکریت پسندوں کی یہ تنظیم ہندوستان اور پاکستان کے درمیان امن کے عمل خاص طور پر مظفرآباد اور سرینگر کے درمیان بس سروس کی زبردست حمایت کرتی ہے ۔ سابق عسکریت پسندوں کی تنظیم یہ مطالبہ کرتی آرہی ہے ان کو بھی بس کے ذریعے بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں اپنے گھروں کو واپس بھیجا جائے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد