سوات: ’گلشن‘ پر زمین تنگ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد میں متحدہ مجلس عمل کی حکومت آنے کے ساتھ ہی سوات کے مرکز مینگورہ میں آباد طوائفوں کی سرگرمیوں پر پابندی لگنے سے یہ طبقہ اس وقت سخت معاشی مشکلات کا سامنا کررہا ہے۔ پولیس کے خوف سے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر ایک طوائف نے بتایا کہ علاقے کے پولیس اہلکار انکو سخت تنگ کررہے ہیں اور آئے دن انکے گھروں پر اچانک چھاپے مارتے ہیں۔ اس طوائف کے بقول متحدہ مجلس عمل کی حکومت سے قبل وہ باقاعدہ سوات اور صوبہ سرحد کے دیگرعلاقوں میں شادی بیاہ کے موقع پر بلائی جاتی تھیں مگر اب ان پر تمام راستے بند ہو گئے ہیں۔ اس سلسلے میں جب سوات کے سنیر سپرنٹنڈنٹ پولیس اختر علی شاہ سے بات کی گئی تو انہوں نے کہا کہ پولیس قانون پر عمل درامد کر رہی ہے۔ چونکہ ان طوائفوں کے گھروں میں رقص و سرود کی محفلیں جمتی ہیں جس کی وجہ سے آس پاس کے لوگ شور شرابے سے تکلیف میں ہوتے ہیں لہذا قانون کے مطابق وہ اس قسم کی محفلوں کی اجازت نہیں دے سکتے۔ انہوں نے اس بات سے انکار کیا کہ ایم ایم اے کی حکومت سے پہلے پولیس کو باقاعدہ کمیشن ملتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ جب کبھی ایسی شکایت ہوتی ہے تو متعلقہ تھانے کے اہلکاروں کے خلاف قانونی کارروائی ہوتی ہے۔ اختر علی شاہ نے کہا انہوں نے حال ہی میں ایسی شکایت کی بنیاد پر ایک تھانے کے افسر اور دو سپاہیوں کو معطل کیا ہے۔ سوات کے مرکز مینگورہ میں طوائفوں کے اس محلے کو بنڑ یا گلشن کہاجاتا ہے پشتون قدامت پرست اور قبائلی معاشرتی ساخت کو دیکھتے ہوئے یہ بہت حیران کن بات ہے کہ سوات میں طوائفوں کی ایک پوری آبادی قیام پذیر ہے۔ ریاست سوات کے پاکستان میں انیس سوانہتر میں ادغام سے قبل تقریباً طوائفوں کے چھتیس گھرانے آباد تھے جو کہ کم ہوتے ہوتے بیس رہ گئے ہیں۔ پاکستان میں ادغام سے قبل سوات میں جشن سوات کے نام سے ایک میلے کا انعقاد ہوتا تھا جس میں صوبہ سرحد کے دیگر پشتون علاقوں سے خواتین فنکارائیں شرکت کے لیے آتی تھیں اور سربازار گلی کوچوں اور چوکوں پر رقص کرتی تھیں ۔ والئی سوات نے ان طوائفوں کو سوات میں بسنے کی پیشکش کی اور یوں یہ محلہ بنڑ گلشن مینگورہ میں آباد ہوا۔ ایک ساٹھ سالہ کنوارے بابا جو طوائفوں کی محفلوں میں شرکت کرنے کی شہرت رکھتے ہیں کہتے ہیں کہ اس زمانے میں کوئی مذہبی اور سماجی دباؤ نہیں تھا۔ طوائف شادی بیاہ کی تقریبات کا لازمی حصہ ہوتا تھی۔ اگر شادی کی تقریب میں طوائف کو نہ بلایا جاتا تو علاقے کے لوگ شادی والوں کو بے غیرت کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ سوات کے ایک صحافی غلام فاروق کا کہنا ہے کہ یہ بہت عجیب بات ہے کہ پشتونوں کے علاقے میں گزشتہ تیس سال سے طوائفوں کو پورا محلہ آباد ہے جہاں کی طوائفیں حجروں کے ساتھ ساتھ شادی بیاہ کی تقریبات میں سرِعام رقص کرتی تھیں۔ بقول غلام فاروق وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اب شادی بیاہ کے موقعوں پر طوائفوں کے رقص کرنے کی رسم تقریباً ختم ہوگئی ہے۔ غلام فاروق کہتے ہیں کہ سوات میں بہت سے اعلی خاندانوں کے نوجوانوں نے رقاصاؤں سے شادی کی ہے۔ شادی کا طریقہ یہ تھا کہ پہلے رقاصہ کو بھگایا جاتا اوربعد میں انکے گھروالوں کی مٹھی گرم کرکے راضی نامہ کرلیتے تھے۔ شادی بیاہ میں ناچنے کی رسم کے ختم ہونے اور متحدہ معاشی بحران کا سامنا کرنے والی ان رقاصاؤں نے متبادل روزگار کے طورپر پشتونوں کی فلموں ، ڈراموں ، سٹیج شوز اور سی ڈیز پر اپنے ناچ گانے پکچرایز کرنے کی طرف رخ کیا ہے۔ شہناز کے بقول وہ چاہتی ہیں کہ ان کا بھائی ان کی طرح ایک باجا بجانے والا نہیں بلکہ ایک بہت بڑا آفیسر بنے۔ شہناز نے ہاسٹل میں رہنے والے اپنے بھائی کو اس بات سے انجان رکھا ہے کہ اس کی بہن راتیں رقص کر کے اسکے مستقبل کو سنوارنے کی کوشش کررہی ہیں۔ ایک اور طوائف بختی جانہ شکایت کرتی ہے کہ لوگ اب انکو بری نظروں سے دیکھتے ہیں۔ ’لیکن آج سے دس سال قبل ہمارے ساتھ بادشاہوں جیسا سلوک کیا جاتا تھا۔ہمیں شادی بیاہ میں بلا کر کپڑے ، دوپٹے اور کافی سارے پیسے دیے جاتے تھے۔‘ سوات کے صلاح الدین کا کہنا ہے کہ سوات کے بنڑ کی طوائفوں نے پشتو موسیقی کو بی بی جانہ ، نازیہ اقبال ، شہناز اور گلناز جیسے نام دیئے ہیں۔ مگر بدقسمتی سے نا صرف سماجی سطح پر بلکہ اب حکومتی سطح پر بھی ان طوائفوں کو ہراساں کیا جارہا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||