BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 04 February, 2005, 03:43 GMT 08:43 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ڈی این اے ٹیسٹ کی اسلامی حیثیت

News image
شوہر کا کہنا ہے کہ اس کی بیوی کے بطن سے پیدا ہونے والی بیٹی اس کی نہیں ہے
لاہور ہائی کورٹ میں اپنی نوعیت کا ایک منفرد مقدمہ زیرسماعت ہے جس میں یہ سوال اٹھایا گیا ہے کہ کیا ڈی این اے ٹیسٹ کو اسلامی قانون کے تحت شہادت کے طور پر قبول کیا جاسکتا ہے اور کیا اس ٹیسٹ کے نتیجہ سے اولاد کے جائز ہونے کا تعین کیاجاسکتا ہے؟

ڈی این اے ٹیسٹ کے تحت درج کرائے گئے حدود کے ایک مقدمہ میں عدالت عالیہ نے ملزم کی درخواست ضمانت پر دونوں فریقوں کے وکلا سے پوچھا ہے کہ کیا اسلامی فقہ میں کسی شخص کو ڈی این اے ٹیسٹ کی بنیاد پر زنا کا مجرم قرار دیا جاسکتا ہے۔

اس مقدمہ میں امریکہ میں مقیم ایک شخص سید امتیاز علی نے پاکستان میں مقیم اپنی بیوی ارم شیریں اور اظہر نامی ایک شخص کے خلاف حدود کا مقدمہ درج کرایا ہے۔ مدعی کا کہنا ہے کہ اس کی غیر موجودگی میں دونوں نے جنسی تعلقات استوار کرلیے جن کے نتیجہ میں ایک لڑکی ایوشہ علی پیدا ہوئی۔

سید امتیاز علی نے اپنا اور اپنی مبینہ لڑکی ایوشہ علی کا امریکہ میں ڈی این اے ٹیسٹ کرایا جس کی رپورٹ نے بتایا کہ یہ لڑکی اس کی اولاد نہیں۔ اس رپورٹ کی بنیاد پر اس نے اپنی بیوی اور اظہر کے خلاف خلاف پاکستان میں حدود کا مقدمہ درج کرا دیا۔

پولیس نے ملزم کو گرفتار کرکے اس کا اوربچی کا پاکستان میں ڈی این اے ٹیسٹ کروایا جس کی رپورٹ سے پتہ چلا کہ یہ بچی اظہر کی اولاد ہے۔

ملزم نے گرفتاری کے بعد ضمانت پر رہائی کے لیے عدالت عالیہ سے رجوع کیا ہے اور موقف اختیار کیا ہے کہ اس کا امتیاز کی بیوی ارم شیریں سے کبھی کوئی تعلق نہیں رہا اورنہ ایوشہ علی اس کی اولاد ہے۔

عدالت عالیہ نہ وکلا کو قران کی سورہ نور کی تفسیر کا مطالعہ کرنے کا مشورہ دیا تاکہ اس مقدمہ میں اٹھائے گئے سوالات کا جواب مل سکے۔

ڈی این اے ٹیسٹ کو عام طور پر مغربی ملکوں میں حتمی ثبوت مانا جاتا ہے۔ تاہم مسلمان فقیہوں کا موقف رہا ہے کہ ڈی این اے ٹیسٹ انسانی شہادت کا بدل نہیں ہوسکتا کیونکہ ٹیشٹ کے کیے مشین کی غلطی کے امکان کو نطرانداز نہیں کیاجاسکتا اور اس بنیاد پر کسی شخص کی اولاد کے جائز ہونے کا تعین نہیں کیا جاسکتا۔

فقیہوں کا کہنا ہے کہ اگر شوہر اپنی بیوی پر زنا کا الزام لگائے تو اسے اس کے چار گوارہ پیش کرنا لازمی ہوتا ہے۔

پاکستان اخبارآج کے اخبارات
صدر مشرف کا خطاب شہ سرخیوں میں رہا
سنیچر کے اخبارات
شوکت عزیز کا بیان سب سے نمایاں رہا
جمعہ کے اخبارت
بلوچستان مسلسل دوسرے مسائل سے نمایاں
جمعراتآج کے اخبارات
جمعرات کی خبروں میں عراق و بلوچستان نمایاں
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد