BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 14 September, 2004, 11:01 GMT 16:01 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عدالت میں خود سوزی کی کوشش

لاہور ہائی کورٹ
وکیل نے خود کو جج کے کمرے میں آگ لگا لی
لاہور ہائی کورٹ میں منگل کو ایک وکیل نے ہائی وے پولیس کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے چیف جسٹس کے کمرہ عدالت میں خود کو آگ لگالی اور شدید زخمی ہوگیا۔

یہ واقعہ منگل کو صبح ساڑھے دس بجے کے قریب چیف جسٹس افتخار چودھری کے کمرہ عدالت میں پیش آیا جہاں عینی شاہدین کے مطابق ایک پچپن سالہ وکیل بلال احمد ڈھلوں نے خود پر مٹی کے تیل کی شیشی الٹ لی اور آگ لگالی۔

اس وقت کمرہ عدالت میں موجود لوگوں کا کہنا ہے کہ وکیل نے آگ لگاتے وقت کہا کہ مجھے پولیس والے تنگ کر رہے ہیں۔

لوگوں نے کپڑا ڈھانپ کر وکیل کی آگ بجھائی اور انہیں عدالت عالیہ کے چیف سیکیورٹی آفیسر عارف نیازی سروسز ہسپتال میں لے گئے جہاں ابتدائی طبی امداد کے بعد انہیں میو ہسپتال کے برن یونٹ میں منتقل کر دیا گیا۔

ہائی کورٹ کے چیف سیکیورٹی آفیسر نے واقعہ کی تفصیل بتانے سے انکار کر دیا اور ان کے کہنے پر پولیس نے فوٹو گرافروں کو زخمی وکیل کی تصاویر اتارنے سے بھی روک دیا۔

ہائی کورٹ میں وکلاء کا کہنا تھا کہ زخمی وکیل بلال ڈھلوں نے کچھ دنوں پہلے یتیم خانہ کے علاقہ میں اپنے مکان کے گرائے جانے کو چیلنج کرتے ہوئے محکمہ ہائی وے کے خلاف ایک رٹ درخواست دائر کی تھی جو عدالت عالیہ نے مسترد کر دی تھی۔ وکیل اپنے مکان کے گرائے جانے پر سخت مایوس تھے جس پر احتجاج کرتے ہوئے انہوں نے یہ قدم اٹھایا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد