’کیا دونوں بھائیوں کو زمین کھاگئی؟‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بدھ کو لاہور ہائی کورٹ میں گزشتہ ماہ القاعدہ سے تعلق کے شبہ میں حراست میں لیے گۓ دو بھائیوں کی برآمدگی کی رٹ درخواست کی سماعت ہوئی اور پولیس کی لاعلمی پر جج نے کہا کہ انھیں آسمان اٹھا کر لے گیا یا زمین کھا گئی۔ پاکستان میں القاعدہ سے تعلق کے شبہ میں حراست میں لیے جانے والے افراد پر فوری طور پر کوئی مقدمہ سامنے نہیں لایا جاتا اور پولیس ان کی گرفتاری سے لاعلمی کا اظہار کرتی رہتی ہے۔ گزشتہ ماہ آٹھ اگست کو لاہور کے علاقے شاد باغ سے پولیس اور انٹیلی جنس ایجنسیوں نے مبینہ طور پر کچھ ترک باشندوں کے ساتھ دہشت گردی کے شبہ میں دو نوجوان بھائیوں غلام دستگیر اور ندیم اعجاز کو اس وقت حراست میں لیا تھا جب یہ مقامی مسجد ریاض الجنۃ سے فجر کی نماز پڑھ کر واپس جارہے تھے۔ بعد میں کچھ عورتوں اور ترک باشندوں کو رہا کردیا گیا لیکن ایک ترک باشندہ خالد اور لاہور کے رہنے والے ان دو بھائیوں کو نہ رہا کیا گیا اور نہ پولیس نے ان کی گرفتاری کو تسلیم کیا۔ ان دو بھائیوں کی بازیابی کے لیے دائر کی گئی ایک رٹ درخواست لاہور ہائی کورٹ کے جج ایم بلال خان کی عدالت میں زیرسماعت ہے۔ گزشتہ سماعت پر شاد باغ پولیس تھانے کے ایس ایچ او جاوید صدیقی نے عدالت کو بتایا کہ انھیں ان دونوں افراد کے بارے میں کوئی علم نہیں اور انھوں نے ان کے حراست میں لیے جانے کی خبر اخباروں میں پڑھی تھی۔ غلام دستگیر اور اعجاز کے وکیل ارشاد اللہ چٹھ نے عدالت عالیہ سے کہا کہ یہ ممکن نہیں کہ کوئی انٹیلی جینس ایجنسی کسی علاقے میں وہاں کی مقامی پولیس کو بتائے بغیر کاروائی کرے۔ وکیل کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان نوجوان افراد کے عزیز و اقارب رات کو ان سے تھانے میں مل کر آئے تھے لیکن ایس ایچ او نے انھیں کھانا دینے کی اجازت نہیں دی تھی اور کہا تھا کہ اوپر سے حکم ہے کہ کھانا نہیں دے سکتے۔ وکیل نے عدالت عالیہ کو یہ بھی بتایا کہ ان دونوں بھائیوں کا تیسرا بھائی تئیس ستمبر کو شاد باغ پولیس سٹیشن سے ان کی موٹر سائکلیں وصول کرکے لایا تھا جو پولیس نے انھیں حراست میں لیتے ہوئے قبضے میں لے لیں تھیں۔ تاہم بعد میں پولیس ان کے گھر سے ان کے کمپیوٹر بھی اٹھا کر لے گئی تھی۔ وکیل کا کہنا تھا کہ ان دونوں بھائیوں کی ترک باشندوں سے مسجد میں ملاقات ہوئی تھی جہاں پر وہ سب لوگ نماز پڑھنے جاتے تھے لیکن ان کا القاعدہ یا کسی دہشت گرد تنظیم سے کوئی تعلق نہیں۔ عدالت عالیہ میں ایس پی سٹی عثمان انور پیش ہوۓ اور انھوں نے کہا کہ کاروائی تو ہوئی تھی لیکن انھیں معلوم نہیں کہ دونوں بھائی کہاں ہیں۔ جج نے ایس پی سٹی سے کہا کہ پولیس کا ایس ایچ او کہہ رہا ہے کہ اسے معلوم نہیں تو کیا ان بھائیوں کو آسمان اٹھا کر لے گیا یا زمین کھا گئی۔ اس پر ایس پی سٹی نے کہا کہ انہیں وقت دیا جاۓ تو وہ وہ اس معاملہ کی انکوائری کرائیں گے اور معلوم کرنے کی کوشش کریں گے کہ یہ بھائی کہاں ہیں۔ عدالت عالیہ کے جج نے ایس پی سٹی سے کہا کہ وہ سترہ ستمبر تک انکوائری مکمل کرکے عدالت عالیہ کو بتائیں کہ یہ دونوں بھائی کہاں ہیں اور کس کے پاس ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||