’شریفوں‘ کو واپسی کی اجازت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی حکومت نے جلاوطن مسلم لیگی رہنما شہباز شریف کے اہل خانہ کو دو ماہ کے لئے پاکستان آنے کی اجازت دیدی ہے۔ یہ بات اطلاعات کے وفاقی وزیر شیخ رشید احمد نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے بتائی۔ انہوں نے کہا کہ صدر جنرل پرویز مشرف خواتین کا احترام کرتے ہیں اور انہوں نے شریف خاندان کی خواتین کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر وطن آنے کی اجازت دے دی ہے۔ پاکستان مسلم لیگ نواز کے صدر میاں شہباز شریف کی اہلیہ اور ان کی دو بیٹیوں کی پاکستان آنے کی اجازت کے لیے درخواست موصول ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ اجازت اس بات سے مشروط ہوگی کہ وہ پاکستان میں کسی سیاسی سرگرمی میں حصہ نہیں لیں گے۔ نصرت شہباز اور ان کی صاحبزادیوں جویریہ اور رابعہ کو پہلے بھی پاکستان آنے کی اجازت دی گئی تھی لیکن مقررہ مدت سے زائد قیام کے بعد حکومت نے انہیں باہر بھجوادیا تھا۔ گیارہ مئی کو پاکستان مسلم لیگ نواز کے صدر شہباز شریف نے بھی وطن لوٹنے کی کوشش کی تھی لیکن انہیں ایئرپورٹ سے ہی واپس سعودی عرب بھجوایاگیا تھا۔ شریف خاندان کے ذرائع کے مطابق لاہور میں نصرت شہباز اپنے کسی عزیز رشتہ دار کی شادی میں شرکت کے لیے آنا چاہتی ہیں۔ پاکستان کے سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کو اقتدار سے ہٹاِئے جانے کے بعد شریف خاندان کو سعودی عرب بھجوا دیا گیا تھا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ وہ ایک معاہدے کے تحت بیرون ملک گئے ہیں جبکہ شریف خاندان ہمشہ ایسے کسی معاہدے کی تردید کرتا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||