پاکستان لانے کا حکم دیا جائے:شہباز | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان مسلم لیگ (نواز) کے صدر شہباز شریف نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کے ذریعے استدعا کی ہے کہ حکومت کو انہیں پاکستان واپس لانے کے لئے حکم دیا جائے۔ شہباز شریف کی جانب سے یہ درخواست سینیئر وکیل عبدالحفیظ پیرزادہ نے دائر کی ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ حکومت نے شہباز شریف کو عدالت اعظمیٰ کے حکم کے خلاف ملک سے واپس بھیجا تھا۔ عدالت سے مزید استدعا کی گئی ہے کہ حکومت کو پابند کیا جائے کہ شہباز شریف کو پاکستان واپس لانے کے بعد عدالتی تحویل میں دیا جائے تا کہ وہ انسداد دہشت گردی کی اس عدالت میں پیش ہو سکیں جس نے انہیں مفرور قرار دے رکھا ہے۔ درخواست میں وزارت داخلہ، فیڈرل انویٹیگیشن ایجنسی (ایف آئی اے) اور لاہور ہائی کورٹ کے رجسٹرار کو فریق بنایا گیا ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ اکتوبر سن انیس سو نِنانوے میں وزیراعظم نواز شریف کی حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا اور ان پر جھوٹے مقدمات بنا کر دس دسمبر سن دوہزار کو ان کے پورے خاندان کو ملک سے باہر بھیج کر جلاوطن کیا گیا۔ شہباز شریف نے کہا کہ انہیں پاکستان سے ڈی پورٹ کئے جانے سے قبل عدالت نے قرار دیا تھا کہ وطن واپس آنا ہر شہری کا آئینی حق ہے لیکن اس کے باوجود جب وہ گیارہ مئی کو وطن پہنچے تو حکومت نے انہیں ڈی پورٹ کردیا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے پہلے لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی جو ان کے بقول غائب کردی گئی تھی لیکن بعد میں اعتراضات کے ساتھ واپس کردی گئی تھی ۔ انہوں نے کہا کہ اس سے ثابت ہوتا ہے لاہور ہائی کورٹ ان کی آئینی درخواست نہیں سننا چاہتی۔ واضع رہے کہ حکومتِ پاکستان کا دعویٰ رہا ہے کہ نواز شریف اور ان کا خاندان دسمبر سن دو ہزار میں دس برس تک پاکستان نہ آنے کا معاہدہ کر کے سعودی عرب چلے گئے تھے۔ حکومت کے ایسے دعویٰ کا مسلم لیگ نواز سختی سے تردید کرتی رہی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||