سدپارہ جھیل آخری سانس لے رہی ہے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یوں تو پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں چھوٹی بڑی ان گنت جھیلیں موجود ہیں لیکن اپنے ماحولیاتی نظام اور قدرتی حسن کے باعث چند ہی جھیلیں ایسی ہیں کہ جو مسافر کا دامن دل اپنی جانب کھینچتی ہیں۔ انہیں میں سے ایک سد پارہ جھیل بھی ہے۔ دشوار گزار راستوں سے گزر کر جب آپ سکردو پہنچیں تو اس جھیل تک رسائی کے لیے مزید آٹھ کلو میٹر کی مسافت آڑھے ترچھے اور تنگ پہاڑی گزرگاہوں پر جیپ کے ذریعے طے کرنا پڑتی ہے۔ اور ہوتا یوں ہے کہ اچانک سنگلاخ پہاڑوں پر سفر کرتے کرتے آپ کی نگاہوں کے سامنے نیلے پانی کی جھلمل کرتی چادر لہرانے لگتی ہے اور سیاح حیرت کے عالم میں اپنی گاڑی روکنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔ بلندی سے نیچے جھانکتے ہوئے پہاڑوں کے دامن میں آباد جھیل پر نظر ڈالیں تو اس کے بیچوں بیچ ایک چھوٹا سا ہرا بھرا جزیرہ دکھائی دیتا ہے اور اس کے کناروں پر سرو قد درخت اس طرح ایستادہ نظر آتے ہیں کہ جیسے وہ اس خوبصورت جھیل کو نامحرم نگاہوں سے بچانے کے لیے بطور محافظ کھڑے ہیں۔
جب میں ان سے پوچھا کہ سدپارہ کے معنی کیا ہیں تو عارف کا جواب تھا ’سات دروازے! اس کی وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ جھیل تک پہنچنے والا پانی جن راستوں سے گزرتا تھا اس گزرگاہ میں سات راجاؤں کے ریاستوں کی حدود آتی تھیں، اسی لیے یہ جھیل سدپارہ جھیل کہلائی‘۔
اسکردو کی زراعت بڑی حد تک بارش پر انحصار کرتی ہے، یوں یہ پانی بارانی علاقوں کی مقامی آباد گاروں کے لیے نعمت غیر مترقبہ سے کم نہیں۔ صرف یہی نہیں، جھیل متعدد مقامی اور ہجرت کر کے آنے والے موسمی پرندوں کا بھی ٹھکانا ہے جو اس کی کوکھ میں موجود آبی حیات سے خوراک کی ضرورت پوری کر لیتے ہیں۔ حسن فطرت آنکھوں کو تازگی بخشنے کے علاوہ اپنے اندر ایک مکمل ماحولیاتی نظام بھی رکھتا ہے اس طرح یہ جھیل بھی مختلف چرند و پرند کی آماجگاہ ہے۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران پاکستان میں قلت آب کی صورتحال نے حکومت پاکستان کو اس بات کا احساس دلایا کہ ملک میں چھوتے بڑے ڈیم تعمیر کیے جائیں ۔ کالا باغ اور بھاشا ڈیم جیسے بڑے منصوبے تو شدید تنقید کی زد میں ہیں لیکن چھوٹے ڈیموں کی تعمیر کے لیے حکومت کو کسی رکاوٹ کا سامنا کرنے کی بجائے مقامی لوگوں کی حمایت حاصل ہوئی ہے۔ اسی لیے جب سدپارہ جھیل پر ڈیم کی تعمیر کا منصوبہ سامنے آیا تو جہاں ایک طرف ماہرین ماحولیات نے اس پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا تو وہیں مقامی لوگوں نے زیادہ بجلی اور پانی ملنے کی نوید سن کر منصوبے کا خیر مقدم کیا۔ سدپارہ جھیل پر ڈیم کا منصوبہ 2003 میں شروع ہوا جو اب تیزی سے تکمیل پا رہا ہے۔ امید ہے کہ منصوبہ 2006 تک مکمل ہوجائے گا۔ تاہم 2005 سے ہی یہ ابتدائی سطح پر کام کا آغاز کر دے گا۔ ڈیم کی تعمیر کی ذمہ داری پاکستان میں پانی اور بجلی کے نگران ادارے واپڈا کو سونپی گئی ہے اور اس کی نگرانی میں ایک نجی تعمیراتی ادارہ منصوبے کو عملی شکل دے رہا ہے۔ حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ڈیم کے مکمل ہونے پر جھیل کے پانی کی موجودہ سطح مزید 133 فٹ بلند ہو جائے گی۔ اسکردو کو لگ بھگ 13 میگا واٹ اضافی پن بجلی مہیا ہوگی جب کہ شہریوں کو یومیہ 30 لاکھ گیلن پینے کا پانی فراہم کرنے کے علاوہ 20 ہزار کینال زرعی رقبہ بھی زیر کاشت لایا جا سکے گا۔ منصوبے کے مطابق ڈیم کو بھرنے کے لیے موسم سرما کی برف پگھلنے سے حاصل ہونے والے پانی کے علاوہ دیوسائی نیشنل پارک میں بہنے والے قدرتی نالے جسے شتونگ کہا جاتا ہے ، کا رخ موڑ کر ایک نالہ ڈیم تک لایا جائے گا۔ دیوسائی کو بھورے ریچھوں، برفانی چیتوں اور دیگر نایاب جانوروں اور پرندوں کی موجودگی کے باعث 1993 میں نیشنل پارک کا درجہ دیا گیا تھا اور اس حیثیت میں اسے ان تمام ملکی اور غیر ملکی قوانین کے تحت تحفظ حاصل ہے جن کا اطلاق محفوظ قرار دیے گئے علاقوں پر ہوتا ہے اور حکومت پاکستان بھی جنہیں تسلیم کرتی ہے۔ ڈیم کی تعمیر کے وقتی فائدے اپنی جگہ لیکن اسکردو سے بہت دور کراچی میں بیٹھے ہوئے ماہر ماحول ڈاکٹر نجم خورشید اس سے متفق نہیں ہیں۔ ڈاکٹر نجم خورشید رامسر کنوینشن ہیڈکوارٹڑ سوئزرلینڈ میں کئی سالوں تک بطور کوآرڈینیٹر ایشیا بھی خدمات سر انجام دے چکے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’کسی بھی جھیل کو ڈیم میں تبدیل کر دینے سے بے شک قلیل المدت فوائد حاصل ہوتے ہیں لیکن ایک بات طے ہے کہ طویل المدت تناظر میں وہ خود ہی ان زمینوں کے لیے خطرہ بن جاتے ہیں جنہیں آباد کرنے کے لیے یہ تعمیر کیے جاتے ہیں۔ دوسری طرف ہر آب گاہ کا اپنا ایک ماحولیاتی نظام ہوتا ہے اور جب اس طرح کے منصوبوں کو عملی شکل دی جاتی ہے تو نہ صرف یہ آبی حیات بلکہ جھیل کے پورے قدرتی ماحولیاتی نظام کو بھی تہہ وبالا کر دیتی ہے۔ افسوس کی بات ہے کہ نقصان کی کسی طرح بھی تلافی نہیں کی جاسکتی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||