افغانوں کو نکل جانے کا نوٹس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جنوبی وزیرستان کے قبائلی علاقوں میں مبینہ طور پر القاعدہ سے تعلق رکھنےوالے شدت پسندوں اور پاکستانی سیکیورٹی دستوں میں جھڑپوں کے بعد حکام نے افغان مہاجرین کو تین دن کے اندر علاقے سے نکل جانے کا نوٹس دیاہے۔ پاکستانی حکام نے تشدد کے ان تازہ واقعات کی تصدیق کرتے ہوئےکہا کہ جنوبی وزیرستان میں سرحد کے قریب شدت پسندوں نے پاکستانی سیکیورٹی دستوں پر راکٹوں اور ماٹروں سے حملے کیے ہیں۔ ان جھڑپوں میں دونوں اطراف سے ہلاک یا زخمی ہونے والوں کی کوئی تفصیل نہیں مل سکی۔ پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان نے کہا ہے کہ پاکستانی دستوں نے شکئی گاؤں کے قریب ہونے والے ان حملوں کے جواب میں گولہ باری کی۔ میجر جنرل شوکت سلطان نے بھی ہلاک یا زخمی ہونے والوں کی کوئی تفصیل فراہم نہیں کی۔ ایک مقامی صحافی دلاور خان وزیر نےبی بی سی کو بتایا کے پاکستانی سیکیورٹی دستے ، افغانستان کی سرحد کے قریب سنتوئی، منتوئی اور خم رنگ کے علاقوں میں گزشتہ دو دنوں سے بمباری کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اتوار کو پاکستانی فضائیہ کے لڑاکا طیاروں نے علاقے کے اوپر پروازیں کیں جن سے لوگوں میں خوف و ہراس کی لہر دوڑ گئی۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کے مطابق ان جھڑپوں میں جانی نقصان ہوا ہے لیکن پاکستانی حکام اس علاقے میں کسی کو جانے کی اجازت نہیں دے رہے۔ انہوں نے کہا کہ مقامی انتظامیہ بھی صحافیوں سے رابطہ کرنے سے گریز کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا علاقے میں موجود افغان مہاجرین کو انتظامیہ نے علاقے سے نکل جانے کے لیے تین دن کا نوٹس دیا ہے۔ دلاور خان وزیر نے بتایا کہ افغان مہاجرین میں پشتو زبان میں لکھا ہوا ایک پمفلٹ تقسیم کیا گیا جس میں انہیں علاقے سے نکل جانے کے لیے تین دن کا وقت دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بہت سے افغانیوں کی وانا بازار میں دکانیں ہیں اور ان دکانوں کو کھولنے کی اجازت نہیں ۔ افغان مہاجرین بغیر اپنے مال اسباب کے علاقہ چھوڑنے پر تیار نہیں ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||