مشترکہ امیدوار لانے میں ناکام | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حزب اختلاف کی جماعتوں کا اتحاد براۓ بحالی جمہوریت (اے آر ڈی) حکمران مسلم لیگ کے نامزد وزیراعظم شوکت عزیز کے مقابلہ میں اٹھارہ اگست کو ہونے والے تھرپارکر اور اٹک کے ضمنی انتخابات میں متفقہ امیدوار لانے میں کامیاب نہیں ہوسکا اور معاملہ دس جولائی تک مؤخر کردیاگیا ہے۔ اے آر ڈی کا سربراہی اجلاس لاہور میں دو روز تک جاری رہا اور منگل کو کسی نتیجہ پر پہنچے بغیر امیدواروں کےمعاملہ پر اختلاف راۓ کے ساتھ ختم ہوگیا۔ اجلاس میں شریک ذرائع کا کہنا ہے کہ اٹک کی نشست پر پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ن) کے درمیان خاصی تلخی ہوئی اور اتحاد ٹوٹتے ٹوٹتے بچا۔ اتحاد کے چیئرمین مخدوم امین فہیم نے ایک پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ وہ کسی چیز کو چھپاۓ بغیر یہ اعلان کرتے ہیں کہ ہم متفقہ امیدوار لانے پر اتفاق نہیں کرسکے اور اب دس جولائی کو اسلام آباد میں اس معاملہ پر اتحاد کا سربراہی اجلاس دوبارہ ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ اتحاد کی ہر جماعت کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ اپنے اپنے امیدواروں سے کہےکہ وہ کاغذات نامزدگی جمع کرادیں۔ انھوں نے کہا کہ متحدہ مجلس عمل نے اے آر ڈی کےساتھ مل کر انتخابات لڑنے پر کوئی باضابطہ رابطہ نہیں کیا البتہ مولانا فضل الرحمن نے ان سے پارلیمینٹ میں غیر رسمی بات کی تھی جس پر انھوں نے مولانا سے کہا تھا کہ وہ کوئی تجویز پیش کریں۔ انھوں نے کہا کہ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کا اے آر ڈی سے پارلیمینٹ میں اتحاد ہے لیکن انھوں نے بھی ضمنی انتخاب لڑنے کے معاملہ پر اے آر ڈی سے کوئی رابطہ نہیں کیا۔ اجلاس میں شریک ایک رہنما کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کا بےنظیر بھٹو سے رابطہ تھا جنہوں نے کہا کہ اگر مسلم لیگ (ن) اٹک سے مضبوط امیدوار لاۓ جیسا کہ راجہ ظفرالحق تو پارٹی ان کی حمایت کرے گی ورنہ اپنا امیدوار کھڑا کرے گی کیونکہ اس نشست پر پیپلز پارٹی کا امیدوار بیالیس ہزار ووٹ لے کر گزشتہ انتخابات میں دوسرے نمبر پر آیا تھا۔ تاہم راجہ ظفرالحق نے مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کے رابطہ کرنے پر انتخاب لڑنے سے معذوری ظاہر کردی۔ اس سے دونوں جماعتوں میں اختلافات کی راہ کھل گئی اور پیپلز پارٹی نے مسلم لیگ (ن) کے کسی اور امیدوار جیسے لال خان کے بیٹے سہیل خان کی حمایت سے انکار کر دیا۔ مسلم لیگ (ن) کی تہمینہ دولتانہ ، جو اپنی جماعت کی نمائندگی کررہی تھیں، اس بات پر مصر رہیں کہ تھرپارکر سے پیپلز پارٹی امیدوار لاۓ اور اٹک کی نشست مسلم لیگ (ن) کو دے دے۔ تاہم اس پر پیپلز پاٹی رضامند نہیں ہوئی۔ آج کے اجلاس میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کے درمیان خاصی گرما گرمی ہوئی۔ جب اختلاف بڑھتاگیا تو پہلے کسی رکن نے یہ تجویز دی کہ معاملہ کو دو روز کے لیے ملتوی کردیاجاۓ اس کے بعد ایک پارلیمانی بورڈ اور کمیٹی بنانے کی تجویزیں آئیں لیکن کسی پر اتفاق نہیں ہوسکا تو دس جولائی کے روز سربراہی اجلاس رکھ کر واضح نفاق کو وقتی طور پر دبانے کی کوشش کی گئی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||