پاکستان کا امریکہ سے احتجاج | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقہ جنوبی وزیرستان میں قدیم کوٹ کے مقام پر امریکی افواج کے داخل ہونے اور تلاشی لینے پر پاکستان حکومت نے ایک بار پھر امریکہ سے سخت احتجاج کیا ہے۔ پاکستان کے فوجی ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان نے بی بی سی کو بتایا کہ جمعرات اور جمعہ کی شب امریکی افواج اتحادیوں کے ہمراہ جنوبی وزیرستان کے ایک گاؤں میں داخل ہوئیں اور بعض مکانات کی تلاشی لی۔ ترجمان کے مطابق امریکی افواج کو شبہ تھا کہ متعلقہ گاؤں سے کسی نے ان پر فائرنگ کی ہے۔ تاہم ان کا دعویٰ تھا کہ امریکی افواج کو کوئی ثبوت نہیں ملا اور وہ کسی کو گرفتار کئے بغیر واپس چلے گئے۔ فوجی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی افواج نے پاکستانی علاقے میں واقع کسی گاؤں پر کوئی فائرنگ نہیں کی البتہ سرحدی گاؤں کی تلاشی لی ۔ ان کے مطابق متعلقہ گاؤں آدھا پاکستان اور آدھا افغانستان میں ہے، اور امریکی افواج نے اس گاؤں کے دونوں جانب تلاشی لی تھی۔ میجر جنرل شوکت سلطان کا کہنا تھا کہ امریکی افواج کے پاکستانی حدود میں داخلے پر امریکہ اور ان کے اتحادیوں سے پاکستان نے احتجاج کیا ہے۔
علاوہ ازیں پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان مسعود خان نے بھی پاکستانی حدود میں امریکی افواج کے داخلے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ اس معاملے پر فوجی سطح پر احتجاج کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ پاکستان میں امریکی افواج کے گھس آنے کا ایک ماہ کے اندر دوسرا واقعہ ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||