BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 14 January, 2004, 13:54 GMT 18:54 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مزید نو ملزمان انتظامیہ کے حوالے

جنوبی وزیرستان
قبائل پر دباؤ ڈالنے کے لئے حکومت نے علاقے میں فوجی آپریشن کیا۔

پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں مقامی قبائل نے جمعرات کے روز مزید نو مطلوبہ افراد کو حکومت کے حوالے کر دیا ہے۔

اس سے بدھ کے روز مزید دو مطلوبہ افراد کو حکومت کے حوالے کیا گیا تھا۔

جمعرات کے روز جن افراد کو حکومت کے حوالے کیا گیا ان کے نام مولوی اقبال، مفتی سراج، ٹھیٹک خان، غلام خان، خلیل، عبدالعزیز، صادق، ڈاکٹر نجیب اللہ اور محمد امین بتائے جاتے ہیں۔

اس طرح احمدزئی قبیلے نے اب تک حکومت سے معاہدے کے تحت گزشتہ تین روز میں مجموعی طور پر چودہ افراد حوالے کیے ہیں۔

تازہ حوالگی کا عمل جنوبی وزیرستان کے صدر مقام وانا کے مغرب میں بارہ کلومیٹر دور اعظم ورسک میں ایک جرگے کے دروان پیش آیا۔

حکومت کے حوالے کئے جانے والوں میں ایک مقامی مدرسے کے مہتمم مولوی میراجم اور عبدالرزاق بتائے جاتے ہیں۔ ان دو کا احمدزئی وزیر قبیلے کی ذیلی شاخ کوجا خیل سے تعلق بتایا جاتا ہے۔

اس سے قبل منگل کے روز بھی قبائل نے تین افراد کو حکومت کے حوالے کیا تھا۔ ان کے نام ارسلا خان، گل عباس خان اور شیر محمد بتائے جاتے ہیں جن کا تعلق گنگی خیل قبیلے سے ہے۔

یہ وہ مقامی قبائل ہیں جن پر حکومت غیرملکی ’دہشت گردوں‘ کو پناہ دینے کا الزام لگاتی رہی ہے۔

حکومت نے گزشتہ دنوں ایسے چھتیس افراد کی فہرست قبائلیوں کے حوالے کی تھی۔ حکومت حکام کا کہنا ہے کہ ان کے حوالے کئے جانے والوں کے خلاف تحقیقات کی جائیں گی۔

حکومت کا کہنا ہے کہ اگر یہ افراد ان کے حوالے نہیں کئے گئے تو وہ خود ان کے خلاف کارروائی کا حق رکھتی ہے۔

مقامی قبائل نے سوموار کے روز حکومت کو یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ خود کارروائی کرتے ہوئے ان افراد کو حکومت کے حوالے کریں گے جو اسے القاعدہ یا طالبان کو پناہ دینے کے الزام میں مطلوب ہیں۔

یہ وعدہ انہوں نے حکومت کی جانب سے اڑتالیس گھنٹوں کی مہلت کے بعد کیا تھا جو وانا میں ایک فوجی کیمپ پر راکٹ حملے میں چار فوجیوں کی ہلاکت کے بعد دی گئی تھی۔ بظاہر اب تک حکومت سے مقامی قبائل بھرپور تعاون کر رہے ہیں۔

قبائلی علاقہ وزیرستان پچھلے ایک ہفتے سے عالمی اور قومی ذرائع ابلاغ کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔

پہل جنوبی وزیرستان میں القاعدہ کے افراد کی تلاش سے ہوئی اور اب شمالی وزیرستان میں پنجاب کے صوبائی وزیر کو ڈھونڈنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد