قبیلے پر چون لاکھ روپے جرمانہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان کی انتظامیہ نے سوموار کے روز احمد زئی قبائل پر گزشتہ دنوں فوجی کیمپ پر حملے کے الزام میں مجموعی طور پر چون لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا ہے جبکہ شمالی وزیرستان میں مقامی علماء نے غیر علاقائی فوج کو کاروائیاں کرنے کی اجازت نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ جرمانے کا اعلان ایجنسی کے صدر مقام وانا میں قبائلیوں کی مقامی انتظامیہ کے ساتھ ایک جرگے میں کیا گیا ہے۔ جرگہ میں بڑی تعداد میں قبائلی عمائدین نے شرکت کی جبکہ انتظامیہ کی نمائندگی اسسٹنٹ پولیٹکل ایجنٹ وانا رحمت اللہ وزیر نے کی۔ احمد زئی وزیر قبیلے پر جرمانہ ان کے علاقے کی جانب سے فوجی کیمپ پر گزشتہ جمعرات کی رات راکٹوں سے حملے کی وجہ سے لگایا گیا ہے۔ اس حملے میں کوئی جانی نقصان تو نہیں ہوا تھا لیکن سرکاری املاک کو نقصان پہنچا تھا۔ جرمانے کے پچاس لاکھ روپے قبیلہ مجموعی طور پر جبکہ مزید دو دو لاکھ اس قبیلے کی ذیلی شاخوں اشرف خیل اور ملک خیل ادا کریں گے۔ ان ذیلی قبائل کے علاقے سے ہفتے کی رات فوجی چوکیوں پر راکٹوں سے حملے کا الزام ہے۔ عدم ادائیگی کی صورت میں حکام کا کہنا ہے وہ ان قبائلیوں کی مراعات بند کرنے اور دیگر اقدام اٹھانے کا حق رکھتے ہیں۔ ادھر شمالی وزیرستان میں میران شاہ سے اطلاعات ہیں کہ اتوار کی رات گئے نامعلوم افراد نے پاکستان فوج کے کیمپ قلعہ میران شاہ پر راکٹ داغا جو اس سے تقریبا سو گز دور گر کر پھٹا۔ دھماکہ اتنا زور دار تھا کہ اس کی آواز دور دور تک سنی گئی۔ دوسرا راکٹ کچھ وقفے کی بعد فوج کی فائرنگ رینج کے قریب گرا لیکن پھٹ نہیں سکا۔ ادھر اتوار کے روز میران شاہ میں مقامی علماء نے ایک اجلاس میں فیصلہ کیا ہے کہ وہ القاعدہ یا طالبان کے خلاف کارروائیوں میں غیرعلاقے کی فوج کو حصہ لینے کی اجازت نہیں دیں گے۔ مولانا محمد دین دار، امیر جمعیت علما اسلام شمالی وزیرستان، کے صدارت میں ہونے والے اس اجلاس میں علماء کا موقف تھا کہ پاکستان فوج کی موجودگی سے مقامی قبائل کے ساتھ غلط فہمی کا امکان ہے جوکہ خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کاروائیوں کے لئے مقامی خاصہ دار فورس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے موجود ہیں جن سے بخوبی کام لیا جا سکتا ہے۔ علماء نے اس سلسلے میں انہیں اعتماد میں لینے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||