پاکستانی میڈیا میں کانگریس کا کوریج | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کانگریس کی غیر متوقع کامیابی اور سونیا گاندھی کے وزیراعظم کے امیدوار کے طور پر سامنے آنے کی خبروں کو پاکستان سرکاری و غیر سرکاری ذرائع ابلاغ میں بار غیر معمولی جگہ دی گئی ہے۔ بھارت کے حالیہ انتخابات کے تمام مرحلوں کی خبریں پاکستان اخبارات میں نمایاں طور پر شائع ہوتی رہیں اور حکومت کے قیام کے مرحلہ شروع ہونے پر بیشتر اخبارات نے خصوصی مضامین شائع کئے ہیں جن میں مختلف زاویوں سے تجزیے پیش کیے گئے۔ گزشتہ سنیچر کو نوائے وقت سمیت بعض اخبارات نے بھارتی انتخابات کے متعلق خصوصی رنگین ایڈیشن شائع کئے۔ ایک مضمون کی ہیڈ لائن تھی کہ ’مسلمانوں نے گجرات کا بدلہ بی جی پی سے لے لیا‘۔ جمعہ کو پاکستان کے تمام اخبارات میں شہہ سرخیوں کے ساتھ نہ صرف خبریں بلکہ سونیا گاندھی کی ہنستی مسکراتی طرح طرح کی تصاویر بھی شائع ہوئیں۔ سیاسی مبصرین ، تجزیہ نگار اور ریٹائرڈ فوجی جرنیلوں کے تبصرے چینل ٹیلی پر مستقل نشر ہوتے رہے۔ قابل ذکر امر یہ ہے کہ پاکستانی میڈیا بالخصوص سرکاری ٹی وی اور ریڈیو پر بھی بھارت مخالف روایتی انداز نہیں اپنایا گیا اور نہ ہی جارحانہ رویہ اختیا ر کیا گیا۔ حکومت سے لے کر سیاسی جماعتوں اور میڈیا کے اندازوں کے متعلق جو تبصرے اور بحث مباحثے اب ہو رہے ہیں ان میں اس بات کو بھی اجاگر کیا جا رہا ہے کہ نتائج بھارت میں انتخابات سے قبل یا دوران ، مبصریں، تجزیہ نگاروں اور سیاسی پنڈتوں سمیت سب کے اندازوں کے برعکس ہیں۔ پاکستان کے انگریزی روزنامہ ڈان نے اداریے میں بھارتی انتخابات کو حیران کن قرار دیا ہے جبکہ ایک اور انگریزی اخبار دی نیوز نے نتائج کو ’اپ سیٹ ، قرار دیا ہے۔ دیگر انگریزی اخبارات جن میں دی نیشن ، فرنٹیئر پوسٹ وغیرہ بھی شامل ہیں انہوں نے بھی بھارتی انتخابی نتائج کو توقعات کے برعکس کہا ہے۔ اردو اخبارات میں جنگ نے نتائج آنے کے بعد اگلے روز ہیڈ لائن لگائی کہ ’شکست پر واجپئی مستعفی سونیا گاندھی وزیر اعظم ہونگی ۔ جبکہ ایک اور اردو اخبار نوائے وقت کی شہہ سرخی تھی کہ ’ بھارت میں ڈرامائی انتخابی نتائج - کانگریس جیت گئی واجپائی مستعفی۔ سندھی اخبار کاوش کی شہہ سرخی تھی کہ ’ واجپائی کے اقتدار کا سورج غروب - کانگریس کو تاریخی فتح حاصل، واجپائی مستعفی۔ جبکہ دیگر سندھی اخبارات جس میں عبرت ، خبروں اور دیگر شامل تھے ان کی ہیڈ لائن بھی ’ کانگریس کو واضع اکثریت مل گئی واجپائی مستعفی، سونیا وزیراعظم ہوں گی، وغیرہ تھی ۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق بھارتی انتخابات کی اس مرتبہ کوریج ماضی میں ہونے والے انتخابات سے خاصی بہتر ہونے کی وجہ دونوں ممالک میں کشمیر سمیت تمام مسائل پر امن طریقے اور سیاسی مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کا ماحول ہے۔ بھارتی انتخابات پر تبصرہ آرائی میں پاکستانی کالم نگار بھی پیچھے نہیں رہے۔ کالم نگار ارشاد حقانی نے لکھا ہے کہ پاکستانی سیاستدانوں کو دنیا کی بڑی جمہوریت سے سبق سیکھنا چاہیے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||