’مارو کم، گھسیٹو زیادہ‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مسلم لیگ نواز کی’ویلکم شہباز تحریک‘ ایک نئے مرحلے میں داخل ہونے کے بعد اب پولیس اور مسلم لیگیوں کے درمیان آنکھ مچولی کی شکل اختیار کر گئی ہے۔ پولیس نے ’مارو کم، گھسیٹو زیادہ‘ کی پالیسی اپنا رکھی ہے تو مسلم لیگی کارکن ’احتجاج کرو اور بھاگو‘ کے اصول پر عمل کر رہے ہیں۔ ایک طرف پولیس نے مسلم لیگیوں کو بھگا کر رکھنے کی پالیسی اپنا رکھی ہے اور بڑی مستقل مزاجی سے ساری ساری رات چھاپوں کے نام پر مسلم لیگیوں کے گھروں کے دروازے کھٹکھٹاتی رہتی ہے لیکن دیواریں پھلاند کر گھروں میں داخل نہیں ہوتی۔ مسلم لیگیوں کو پکڑا تو جا رہا ہے لیکن کسی کو تشدد کا نشانہ بنانے کی ابھی تک کوئی شکایت سامنے نہیں آئی۔ ادھر مسلم لیگی رہنما اور کارکن اپنے گھروں میں نہیں سوتے اور دن میں مظاہرہ کرنے سے باز نہیں آتے۔ مسلم لیگ (ن) پنجاب کے جنرل سیکرٹری خواجہ سعد رفیق نے بتایا کہ انہوں نے پہلے ہی ہدایت جاری کر رکھی ہے کہ کوئی مسلم لیگی رہنما اور کارکن اپنے گھر میں نہ سوئے اور ہر طرح سے گرفتاری سے بچے تاکہ وہ گیارہ مئی کو ائرپورٹ پہنچ سکیں۔ فریقین اپنی اپنی حکمت عملی کی کامیابی کے لئے مختلف حربے اور داؤ پیچ استعمال کر رہے ہیں۔ مسلم لیگی رکن پنجاب اسمبلی رانا مشہود خان نے لاہور کی ہائی کورٹ میں ایک درخواست دائر کی کہ پولیس کو انہیں گرفتار کرنےاور حراساں کرنے سے روکا جائے۔ ہائی کورٹ نے پولیس کو ہدایات جاری کیں کہ اگر رانا مشہود خان کے خلاف کوئی مقدمہ نہیں ہے تو انہیں گرفتار اور حراساں نہ کیا جاۓ۔ مسلم لیگی ایم پی اے اس فیصلے کے بعد احاطہ عدالت سے باہر نکل ہی رہے تھے کہ پولیس نے انہیں پکڑ لیا اور ان کے خلاف سولہ ایم پی او کی دفعہ کے تحت اندیشہ نقص امن وعامہ کے تحت مقدمہ درج کر کے تین ماہ کے لئے نظر بند کردیا۔ یعنی اگر پہلے مقدمہ نہیں تھا تو اب تو ہے۔ مسلم لیگ یوتھ ونگ کے صدر نے کہا ہے کہ پولیس کو حیران اور زچ کر دینے کے لئے نوجوان ایک نہ ایک’ آئیٹم‘ روزانہ ضرور پیش کریں گے۔ پولیس نے مسلم لیگ کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات صدیق الفاروق کے بعد صوبائی سیکرٹری اطلاعات ناصر خان کو بھی لاہور سے گرفتار کر کے تین ماہ کے لئے جیل میں ’بک‘ کر دیا ہے۔ ایس ایس پی آپریشن لاہور آفتاب چیمہ کا کہنا ہے کہ گرفتاریاں اتنی نہیں ہو رہیں جتنا ان کا شور ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’صرف ان لوگوں کو پکڑا جا رہا ہے جن کے خلاف پرانے مقدمات ہیں یا وہ دفعہ ایک سو چوالیس کی خلاف ورزی کر رہے ہیں‘۔ پولیس نے ابھی تک کسی مقام پر لاٹھی چارج کیا ہے نہ آنسو گیس کا استعمال۔ اس کی وجہ پولیس کے بقول یہ ہے کہ اس کی ضرورت ہی پیش نہیں آئی۔ ضلعی ناظم نے استقبال کی تیاریوں کو امن کے لئے خطرہ قرار دے کر لاہور میں دفعہ ایک سو چوالیس لگا رکھی ہے تو وزیر اعلیٰ پنجاب نے اسے بلاضرورت قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ شہباز شریف کی آمد کے اعلان کے باعث کوئی مسئلہ ہی پیدا نہیں ہوا۔ گیارہ مئی قریب آ رہی ہے۔ مسلم لیگیوں نے نیلا گنبد پر جمع ہونے کا اعلان کر رکھا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ مسلم لیگیوں کی کتنی تعداد پولیس کو جل دے کر وہاں تک پہنچ پاتی ہے اور پھر ان میں سے کتنے لاہور کے نواح میں واقع بیس کلومیٹر دور ائرپورٹ تک پہنچ پاتے ہیں؟ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||