BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 20 March, 2004, 11:41 GMT 16:41 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کوئٹہ میں کرفیو اٹھا لیا گیا

کوئٹہ میں کرفیو ختم
کوئٹہ میں اٹھارہ روز گزرنے کے بعد کرفیو اٹھا لیا گیا ہے جبکہ فرنٹیئر کور، فرنٹیئر کانسٹیبلری اور پولیس کے دستےشہر میں گشت کر رہے ہیں۔

کوئٹہ میں دو مارچ کو عاشورہ کے ماتمی جلوس پر نا معلوم افراد نے حملہ کر دیا تھا جس کے بعد شہر میں فسادات پھوٹ پڑے تھے جس سے املاک کو بہت نقصان پہنچا تھا۔

حکومت نے حالات پر قابو پانے کے لیے کرفیو نافذ کر دیا تھا جس میں درجہ بہ درجہ نرمی کی گئی اور سنیچر کے روز انتظامیہ نے مکمل طور پر کرفیو اٹھا لیا ہے۔

شہر میں کرفیو اور کرفیو میں نرمی کے وقفے کے دوران حالات انتہائی کشیدہ رہے اور خوف کی فضا پائی جاتی تھی۔

کون کیا کر رہا ہے؟
 افغانستان میں جو کچھ ہوا آج وہ پاکستان میں ہو رہا ہے۔ وہی قوتیں جو افغانستان میں بر سر پیکار تھیں آج پاکستان میں کام سرانجام دے رہی ہیں
حکیم بلوچ

اس وقت بھی امن کے قیام کے لیے انتظامیہ کی کو ششیں جاری ہیں اور ہفتے کو اہل تشیع تاجر برادری اور انتظامیہ کے ما بین مذاکرات کے حوالے سے اہم فیصلے متوقع ہیں جن میں امن کے قیام کے لئے اقدامات اور کاروباری مراکز کھولنے کے بارے میں بتایا جائے گا۔

اس کے علاوہ کوئٹہ میں امن کے قیام کے حوالے سے سیمینار منعقد ہوئے جن میں شہریوں کے حقوق کی با تیں ہوئیں۔ ان سیمیناروں میں کہا گیا ہے کہ ماضی کی غلط پالیسیوں کا خمیازہ آج بھگتا جا رہا ہے۔

پریس کلب کے زیر اہتمام سیمینار میں مقررین نے کہا ہے کہ ایران میں امام خمینی کے انقلاب کے بعد امریکہ نے مسلمانوں میں پھوٹ ڈالنے کے لئے مختلف اقدام کیے جن میں ایک ان میں تفرقہ ڈال کر لڑانا تھا۔

کیا یہ سازش تھی؟
 ایران میں امام خمینی کے انقلاب کے بعد امریکہ نے مسلمانوں میں پھوٹ ڈالنے کے لئے مختلف اقدام کیے جن میں ایک ان میں تفرقہ ڈال کر لڑانا تھا
مقررین

امان اللہ شادیزئی نے کہا ہے کہ مختلف ایجنسیوں نے یہ کام سرانجام دیئے ہیں۔حکیم بلوچ نے کہا کہ افغانستان میں جو کچھ ہوا آج وہ پاکستان میں ہو رہا ہے۔ وہی قوتیں جو افغانستان میں بر سر پیکار تھیں آج پاکستان میں کام سرانجام دے رہی ہیں۔

بلوچستان سوشل فورم کے زیر اہتمام سیمینار میں بھی امن کے قیام پر باتیں ہوئیں اور کوئٹہ میں عاشورہ کے جلوس پر حملے اوراس کے بعد فسادات اور اس طرح اس سے پہلے شیعہ برادی کے پولیس کیڈٹس اور امام بارگاہ پر حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی اور امن کے قیام کے لیے کوششوں پر زور دیا گیا۔

یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ حکومت کو ان واقعات میں ملوث افراد کی گرفتاری کے لیے تاحال کسی قسم کی کامیابی حاصل نہیں ہوئی ہے۔

ماتمی جلوس پر حملے کے حوالے سے تو انسپکٹر جنرل پولیس نے یہاں تک کہا ہے کہ چونکہ حملہ آوروں کی صرف ٹانگیں ملی ہیں لہذا ان کی شناخت مشکل ہے اور ان حملہ آوروں کے گروہ تک پہنچنا اس سے بھی زیادہ مشکل ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد