’الطاف صاحب کا فیصلہ سازی اور معاملات سے کوئی تعلق نہیں‘

پاکستان کی سیاسی جماعت متحدہ قومی موومنٹ کے سینیئر رہنما فاروق ستار نے کہا ہے کہ پارٹی کی فیصلہ سازی اور معاملات کا اب الطاف حسین سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
اتوار کو کراچی میں ایم کیو ایم پاکستان کی رابطہ کمیٹی اور اراکینِ پارلیمان کے ساتھ پریس کانفرنس میں فاروق ستار نے کہا کہ ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو اور دیگر دفاتر کو غیر قانونی اور غیر آئینی طور پر سیل کیا گیا۔
انھوں نے کہا کہ گذشتہ کچھ عرصے سے ایم کیو ایم کی سیاسی آزادی پر عائد غیر اعلانیہ اور غیر آئینی پابندی ختم ہونی چاہیے۔
فاروق ستار نے کہا کہ ’23 اگست کو ہم نے ایک لکیر کھینچ دی، جس کے بعد پارٹی کی فیصلہ سازی اور دیگر معاملات کا تعلق لندن سے نہیں رہا اور جب ہمارا لندن سے کوئی تعلق نہیں تو اس کا مطلب الطاف صاحب سے بھی کوئی تعلق نہیں۔‘
فاروق ستار نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ کسی سیاسی جماعت نے اپنے سربراہ کے بارے میں ایسی بات کی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پریس کانفرنس سے قبل بی بی سی کی حمیرا کنول سے بات کرتے ہوئے فاروق ستار نے کہا تھا کہ ان کی جماعت کے دفاتر کو مہندم کرنے کے لیے جس وقت کا انتخاب کیاگیا اس سے تاثر اچھا نہیں جا رہا ہے۔
’اگر یہ دفتر گرانے بھی تھے، ہمیں کہا جاتا ہم خود گرا دیتے، غیر قانونی زیادہ نہیں، یہ دفاتر یونین کونسل کے دفاتر تھے، بلدیہ کی اجازت سے بنے تھے، کچھ دفاتر کے لیے تحریری اجازت بھی دی گئی۔‘

،تصویر کا ذریعہepa
ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ ایم کیو ایم اپنے تحفظات متعلقہ حکام تک پہنچا رہی ہے، تاہم کوئی بھی جواب نہیں ملا۔
انھوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کے دفاتر کو مسمار کر کے یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ مسئلہ صرف الطاف حسین سے نہیں بلکہ ایم کیو ایم سے ہے۔
پریس کانفرنس کے دوران ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ ’آپ کا عمل ثابت کر رہا ہے کہ ایک شخص کے بیانات کا معاملہ نہیں، ایک ایم کیو ایم بنادی گئی جس کا نام میں نہیں لے رہا، ایک ایم کیو ایم لندن ہے جس کا نام خود رکھا گیا، ایک ایم کیو ایم پاکستان ہے جو اصل ایم کیو ایم ہے، جبکہ ایسا لگتا ہے پس پردہ 4 یا 5 ایم کیو ایم بنانے کے ایجنڈے پر کام ہو رہا ہے۔‘
فاروق ستار نے کہا کہ اب تک ایم کیو ایم کے تین رہنماؤں کو گرفتار کیا گیا ہے جبکہ جماعت کے 150 سے زائد کارکن زیرِ حراست ہیں جن میں چھ سے زائد خواتین بھی شامل ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ٹی وی چینلز پر حملے میں ہماری جن خواتین کو گرفتار کیا گیا ان کا اس حملے سے کوئی تعلق نہیں۔
خیال رہے کہ 22 اگست کو ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے کراچی میں بھوک ہڑتال کرنے والے کارکنوں سے ٹیلی فونک خطاب میں پاکستان کی فوجی قیادت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا اور اُنھوں نے ’پاکستان مخالف‘ نعرے بھی لگوائے تھے۔
ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے اپنے خطاب کے بعد اپنا معذرتی بیان بھی جاری کیا تھا۔







