مسئلہ الطاف حسین سے نہیں ایم کیو ایم سے ہے: فاروق ستار

- مصنف, حمیرا کنول
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان کی سیاسی جماعت متحدہ قومی موومنٹ کے سینیئر رہنما اور ممبر قومی اسمبلی ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم کے دفاتر کو مسمار کر کے یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ مسئلہ صرف الطاف حسین سے نہیں بلکہ ایم کیو ایم سے ہے۔
سنیچر کو بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے فاروق ستار نے کہا کہ وہ حکومت اور انتظامیہ کو خبردار کرتے ہیں کہ ان اقدامات سے اچھا پیغام نہیں جا رہا۔
ان کا کہنا تھا کہ مسمار ہونے والے آدھے سے زیادہ دفاتر قانونی ہیں، پرائیویٹ پراپرٹی پر ہیں اورانھیں عدالتی حکم کے بغیر سیل کیا جا رہا ہے۔‘
فاروق ستار نے کہا کہ ان کی جماعت اپنے بانی کی جانب سے پاکستان مخالف بیان سے لاتعلقی کا اظہار کر چکی ہے مگر پھر بھی اسے جگہ نہیں دی جا رہی ہے۔
فاروق ستار نے کہا کہ شاید ان سے توقع کی جا رہی ہے کہ ہم ’بانی تحریک‘ کے بارے میں کہیں کہ اب وہ ہمارے قائد نہیں۔’اگر وہ یہ الفاظ چاہتے ہیں تو میرا چناؤ یہ ہے، ۔۔۔جب میں یہ کہہ رہا ہوں کہ ہمارے فیصلوں کا تعلق لندن سے نہیں ہے تو میں کیا پیغام دے رہا ہوں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
فاروق ستار نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ کسی سیاسی جماعت نے اپنے سربراہ کے بارے میں ایسی بات کی ہے۔
ایم کیو ایم کے رہنما نے بتایا کہ 22 اگست کے بعد لندن میں موجود ان کی جماعت کے قائد سے کوئی رابطہ نہیں ہوا۔
فاروق ستار نے کہا کہ ایم کیو ایم کو پاکستان سے چلانے سے متعلق اعلان سے پہلے لندن آفس کو بریف کر دیا گیا تھا۔’ہم نے لندن میں بھی بریف کر دیا تھا، جس کے بعد یہ تقریر ہوئی ہے پریس کلب میں۔‘
ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ ایم کیو ایم اپنے تحفظات متعلقہ حکام تک پہنچا رہی ہے، تاہم کوئی بھی جواب نہیں ملا۔’
’ہمیں لگ رہا ہے کہ ہم سے ’ڈو مور‘ کی توقع کی جا رہی ہے، ہم نے کوئی ڈیل نہیں کی۔‘
خیال رہے کہ 22 اگست کو ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے کراچی میں بھوک ہڑتال کرنے والے کارکنوں سے ٹیلی فونک خطاب میں پاکستان کی فوجی قیادت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا اور اُنھوں نے ’پاکستان مخالف‘ نعرے بھی لگوائے تھے۔ بعد ازاں پاکستانی میڈیا کے دفتر اور ملازمین کو بھی نشانہ بنایا گیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہReuters
فاروق ستار نے کہا کہ اب تک ایم کیو ایم کے تین رہنماؤں کو گرفتار کیا گیا ہے جبکہ جماعت کے 150 سے زائد کارکن زیرِ حراست ہیں جن میں چھ سے زائد خواتین بھی شامل ہیں۔ فاروق ستار کے مطابق اس وقت وہ ایم کیو ایم کا عارضی دفتر اپنے گھر سے چلا رہے ہیں۔
ایم کیو ایم کے رہنما نے کہا کہ ان کی جماعت کے دفاتر کو مہندم کرنے کے لیے جس وقت کا انتخاب کیاگیا اس سے تاثر اچھا نہیں جا رہا ہے۔
’اگر یہ دفتر گرانے بھی تھے، ہمیں کہا جاتا ہم خود گرا دیتے، غیر قانونی زیادہ نہیں، یہ دفاتر یونین کونسل کے دفاتر تھے، بلدیہ کی اجازت سے بنے تھے، کچھ دفاتر کے لیے تحریری اجازت بھی دی گئی۔‘
ایم کیو ایم کے ہیڈکوارٹر نائن زیرو کے بارے میں فاروق ستار کا کہنا تھا ’میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ وہ بالکل قانونی ہے، اور اگر اس کی قانونی حیثیت کو مکمل کرنے میں کوئی مرحلہ رہ گیا ہے تو عموماً طرح کی عمارتوں کو ریگولرائز کر دیا جاتا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہepa
ایم کیو ایم کے سینیئر اراکین کے بیرونِ ملک مقیم ہونے یا واپسی کے بارے میں تو نہیں بتایاگیا۔ تاہم فاروق ستار کا کہنا تھا کہ حیدر عباس رضوی کینیڈا، فیصل سبزواری اور بابر غوری امریکہ اورعادل صدیقی دبئی میں مقیم ہیں جبکہ دو ارکان 22 اگست سے کچھ روز قبل ہی لندن گئے تھے۔
ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے اپنے خطاب کے بعد ایک معذرتی بیانبھی دیا تھا۔







