’فیصلے ہم کریں گے اور ایم کیو ایم پاکستان سے چلےگی‘

فاروق ستار کو رینجرز کے اہلکاروں نے پیر کی شب تحویل میں لیا اور منگل کی صبح چھوڑ دیا تھا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنفاروق ستار کو رینجرز کے اہلکاروں نے پیر کی شب تحویل میں لیا اور منگل کی صبح چھوڑ دیا تھا

پاکستان کی سیاسی جماعت متحدہ قومی موومنٹ کے ڈپٹی کنوینر فاروق ستار نے کہا ہے کہ جب متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کی جماعت ہے تو اس کا انتظام بھی پاکستان سے چلنا چاہیے۔

کراچی کے پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایم کیو ایم کے سینیئر رہنما کا کہنا تھا کہ اگر ذہنی تناؤ یا کسی بھی وجہ سے جماعت کے قائد الطاف حسین ’پاکستان مخالف‘ بیانات دے رہے ہیں تو پہلے یہ معاملہ حل ہونا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ پیر کو ایم کیو ایم کی تقریب میں ریاستِ پاکستان کے حوالے سے جو نعرے لگے اور باتیں ہوئیں وہ نہیں ہونی چاہیے تھیں۔

دوسری جانب منگل کی رات کو کراچی میں رینجرز نے ایم کیو ایم کے پی آئی بی کالونی میں قائم عارضی دفتر کی تلاشی لی اور وہاں موجود کارکنوں کے شناختی کارڈ چیک کیے اور ہال کی تلاشی لی تاہم کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔

فاروق ستار کا کہنا تھا کہ ’ہم ان باتوں سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہیں، اس کی مذمت کرتے ہیں اور اس پر ندامت کا اظہار بھی کرتے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’ہمارا یہ فیصلہ ہے کہ ایم کیو ایم کے پلیٹ فارم سے یہ بات دوہرائی نہ جائے۔‘

فاروق ستار کا کہنا تھا کہ جماعت کے قائد کو ذہنی تناؤ یا دباؤ کا کوئی مسئلہ ہے تو اسے پہلے حل ہونا چاہیے۔

’جب تک یہ مسئلہ ہے، فیصلے ہم کریں گے، فیصلے یہاں ہوں گے اور ایم کیو ایم یہاں سے آپریٹ کرے گی۔‘

انھوں نے یہ بھی کہا کہ ان کا یہ پیغام ’یہاں کے لیے بھی ہے اور وہاں (لندن) کے لیے بھی ہے۔‘

فاروق ستار کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’ہم خود ایم کیو ایم ہیں تو ہم جماعت سے لاتعلقی کا اعلان کیوں کریں گے اور ہم اپنے مسائل کا حل نکالیں گے۔‘

اس پریس کانفرنس میں فاروق ستار کے ساتھ سندھ اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف خواجہ اظہار اور سینیٹر نسرین جلیل سمیت جماعت کے متعدد ارکانِ صوبائی و قومی اسمبلی موجود تھے۔

انھوں نے کہا تشدد کے ذریعے مقاصد حاصل کرنا ایم کیو ایم کی پالیسی نہیں اور جس نے ایم کیو ایم کے پلیٹ فارم سے تشدد کا راستہ اختیار کیا ہم اس سے بھی لاتعلق ہیں۔

ایم کیو ایم کا ہر کارکن، ووٹر اور حامی اس کی مذمت کرتے ہیں اور اس سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہیں۔

متحدہ قومی موومنٹ پاکستان میں پاکستان کی سیاست کر رہی ہے اور قیام سے آج تک ایم کیو ایم کی پالیسی ہے کہ یہ جماعت پاکستان کی اکائیوں کو متحد رکھنے کا عمل ہے۔

ریاستِ پاکستان کے حوالے سے جو بات ہوئی یا نعرے لگے۔ ایم کیو ایم کی جانب سے پاکستانی عوام کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ جماعت کے پلیٹ فارم سے یہ عمل دہرانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

کارکن ایسا عمل کریں یا قائد کسی بھی کیفیت میں ایسا عمل کریں، متحدہ قومی موومنٹ پاکستان یہ ذمہ داری لیتی ہے کہ ایسا اب نہیں ہوگا۔

فاروق ستار نے امید ظاہر کی کہ ان کے سِیل کیے جانے والے دفاتر کھول دیے جائیں گے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنفاروق ستار نے امید ظاہر کی کہ ان کے سِیل کیے جانے والے دفاتر کھول دیے جائیں گے

قائدِ تحریک نے بھی اپنے بیان میں کہا ہے کہ انھیں اس پر ندامت ہوئی ہے اور ضرورت اس بات کی ہے کہ متحدہ قومی موومنٹ آپریٹ بھی پاکستان میں کرے۔

دوسری جانب ایم کیو ایم کے رہنما عامر لیاقت نے نجی ٹی وی چینل اے آر وائی کے ایک پروگرام میں ایم کیو ایم سے علیحدہ ہونے کا اعلان کیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ پیر کی رات کو جب انھیں حراست میں لیا گیا تو اس کے بعد سے بہت پریشان ہیں، بہت سوچا اور اب میں ایم کیو ایم میں رہنا نہیں چاہتا۔

اس سے قبل پریس کلب کے باہر ایم کیو ایم کے کارکنوں کی جانب سے میڈیا کے خلاف اقدامات پر احتجاج کرنے والے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے فارق ستار نے کہا کہ وہ تشدد کے قائل نہیں اور میڈیا ہاؤسز کے ساتھ جو کچھ ہوا اس کی مذمت کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ میڈیا ہاؤسز کو یقین دلاتے ہیں کہ جو کل ہوا وہ ’نہ کل ایم کیو ایم کی پالیسی تھی اور نہ آج ہے۔‘

کراچی میں ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کی تقریر کے نتیجے میں ہونے والی ہنگامہ آرائی کے بعد رینجرز کے اہلکار فاروق ستار اور سندھ اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف خواجہ اظہار الحسن کو پیر کی شب اپنے ساتھ لے گئے تھے۔

تاہم ان دونوں رہنماؤں کو منگل کی صبح چھوڑ دیا گیا تھا جس کے بعد فاروق ستار کی جانب سے پریس کانفرنس کا اعلان کیا گیا تھا۔

فاروق ستار کو تحویل میں لیے جانے کے بعد رینجرز کی جانب سے کہا گیا تھا کہ انھیں جماعت کے احتجاج میں شامل افراد کی شناخت کے لیے لے جایا گیا ہے۔

پیر کو ہونے والی ہنگامہ آرائی کے دوران ایم کیو ایم کے مشتعل کارکنوں نے نجی ٹی وی چینل اے آر وائی کے دفتر میں توڑ پھوڑ کی تھی اور علاقے میں فائرنگ اور جلاؤ گھیراؤ کے واقعات میں ایک شخص ہلاک اور 15 زخمی ہوگئے تھے۔